بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کیا پانی سے استنجاء کرنے سے پہلے پتھر،ڈھیلے یا ٹشو کا استعمال ضروری ہے؟

سوال

زید واش روم گیا ،اس نے پیشاب کیا اور پھر بیٹھے بیٹھے صرف پانی کا استعمال کیا ،اپنے آپ کو پانی کے ساتھ دھو کر اٹھ کر چلا گیا اور جا کر ٹوٹیوں پر مکمل وضوکیا اور پھر نماز میں جا کھڑا ہوا زید جب واش روم گیا تو پیشاب کرنے کے بعد زید کو کھڑا ہونا چاہیئے تھا پھر پتھر ،ڈھیلے یا ٹشو پیپر کا استعمال کرنا چاہیئےتھا پھر جب یقین ہو جاتا کہ پیشاب وغیرہ خشک ہو گیا ہے کوئی قطرہ وغیرہ باقی نہیں رہا تو پھر بیٹھ کر پانی کا استعمال کرنا چاہیئےتھا لیکن کچھ نہیں کیا حالانکہ یہ ایک کنفرم بات ہے کہ انسان جب پیشاب کرنے کے بعد اپنے آپ کو دھونے کے بعد جب اٹھ کر چلتا ہے تو مثانے کی نالیوں میں کھڑے پیشاب کے قطرے نکلتے ہیں اور شلوار کو ناپاک کر دیتے ہیں اسکے باوجود عوام کیا خواص بھی پرواہ نہیں کرتے تو کیا اس صورت میں نماز ہو جائےگی۔

جواب

استنجا

واضح رہے کہ پیشاب کرنے کے بعد اس حدتک ٹھہرنا ضروری ہے کہ بندے کو اطمینان ہوجائے کہ اب مزید کوئی قظرہ نہیں نکلے گا، (اور بلا وجہ اس میں وسوسہ میں بھی مبتلاء نہیں ہونا چاہیے)یہ اطمینان حاصل کیے بغیر وضو کرکے نماز ادا کرنا درست نہیں،بلکہ اگر اطمینان کرنے کے بعد وضو کرلیا اور پھر پیشاب کا قطرہ نکل گیا تب بھی وضو نہیں ہوگا، دوبارہ وضو کرنا پڑےگا۔ نیز آج کل عموماً لوگ ضعفِ مثانہ کا شکار ہوتے ہیں اس لیے پہلے ٹشو وغیرہ سے استنجا کر لیا جائے جب اطمینان ہوجائے تو پانی سے استنجا کرکے وضو کرنا چاہئے، تاہم اگر کسی شخص کو اپنے بارے میں یہ اطمینان ہو کہ پیشاب کرلینے کے بعد قطرہ نہیں نکلتاتو اس کےلیے ٹشو سے استنجا کرنا ضروری نہیں وہ فوری طورپرپانی سے استنجا کرکے نماز ادا کرسکتاہے۔
الدر المختار (1/ 344)سعيد
يجب الاستبراء بمشي أو تنحنح أو نوم على شقه الأيسر، ويختلف بطباع الناس
رد المحتار (1/ 344)سعيد
(قوله: يجب الاستبراء إلخ)…. أما نفس الاستبراء حتى يطمئن قلبه بزوال الرشح فهو فرض وهو المراد بالوجوب، ولذا قال الشرنبلالي: يلزم الرجل الاستبراء حتى يزول أثر البول ويطمئن قلبه. وقال: عبرت باللزوم لكونه أقوى من الواجب؛ لأن هذا يفوت الجواز لفوته فلا يصح له الشروع في الوضوء حتى يطمئن بزوال الرشح…. (قوله: ويختلف إلخ) هذا هو الصحيح فمن وقع في قلبه أنه صار طاهرا جاز له أن يستنجي؛ لأن كل أحد أعلم بحاله
مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 42) دار الكتب العلمية
“فصل في الاستنجاء”
هو قلع النجاسة بنحو الماء ومثل القلع التقليل بنحو الحجر “يلزم الرجل الاستبراء”. عبر باللازم لأنه أقوى من الواجب لفوات الصحة بفوته لا بفوت الواجب والمراد طلب براءة المخرج عن أثر الرشح “حتى يزول أثر البول” بزوال البلل الذي يظهر على الحجر بوضعه على المخرج “و” حينئذ “يطمئن قلبه
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس