بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

موبائل سم پر کمپنی والوں سے ایڈوانس بیلنس منگوانا

سوال

ایک شخص نے اپنے موبائل میں لوڈ کروایا ، پھر لوڈ ختم ہوجانے کے بعد اس نے ضرورت کی بناء پر کمپنی والوں سے ایڈوانس منگوایا پھر اس نے دوبارہ لوڈ کروایا اور کمپنی والوں نے ایڈوانس کے ساتھ کچھ رقم بھی کاٹی تو کیا ایسا کرنا جائز ہے ، اس لیے کہ اس میں ربوا کی شکل پیدا ہورہی ہے۔

جواب

موبائل نیٹ ورک استعمال کرنے والا صارف کمپنی سے جو بیلنس حاصل کرتا ہے، اس سے اصلاً پیسے کا حصول مقصود نہیں ہوتا، بلکہ اصل مقصود نیٹ ورک استعمال کرنے کا حق حاصل کرنا ہوتا ہے، اور صارف کو مخصوص دورانیہ کے لیے فون، میسیج یا انٹرنیٹ کی سہولیات سے انتفاع کا حق مل جاتا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ گاہک کمپنی سے کوئی رقم نہیں لیتا، بلکہ مخصوص منفعت کی شکل میں ایک حق حاصل کرلیتا ہے، اور بیلنس جو موبائل میں ظاہر ہوتا ہے وہ اسی منفعت کی رسید ہے ، کوئی رقم نہیں ہے، البتہ کمپنی نے یہ اصول بنا رکھا ہے کہ اگر صارف اس منفعت کی قیمت پہلے ادا کرے گا یعنی نقد بیلنس کروائیگاتو اس سے کم قیمت وصول کی جائے گی ، اور اگر پہلے منفعت وصول کرکے قیمت بعد میں ادا کرے گا ( جیسا کہ ایڈوانس میں ہوتا ہے) تو اس سے زیادہ قمیت وصول کی جائے گی، اور چونکہ یہ زیادہ قیمت کسی رقم کے مقابلے میں وصول نہیں کی جارہی بلکہ حق اور منفعت کا عوض ہے جو نقد کے مقابلے میں ادھار کی وجہ سے زیادہ وصول کیا جاتا ہے، اس لیے ہماری رائے میں یہ سودی معاملہ نہیں کہلائے گا۔لہٰذابوقت ضرورت ایڈوانس (منفعت) لینا جائز ہے۔
(مأخذہ تبویب:فتاوی ٰدارالعلوم کراچی۱۱/۲۲۵۳)
تكملة فتح الملهم،المفتي محمد تقي العثماني(1/236)دارالعلوم کراچی
وا لنوع ا  لرابع من ا لحقوق عبارة عن حق الاستفادة بإجازات كتبها ا لمجيز على ورقة، فثبتت الإجازة لكل من يحملها، مثل طوابع ا لبريد، فإنها عبارة عن إجازة استعمال         البريد، ومثل تذاكر القطار وا لطائرة والأتوبيسات، فإنه عبارة عن إجازة استعمالها لكل من يحملها، ولم أر عند الفقهاء حكما صريحا لبيع مثل هذه الحقوق، ولكن الذي يظهر أن الإجازة ا لمكتوبة إن كانت مقتصرة على من أعطاها باسمه الخاص، فلا يجوز بيعها، كما في تذاكر الطائرة، فإنها مخصوصة بالإسم، فلا يجوز بيعها لكون الشركة إنما رضيت بعقد الإجارة مع رجل مخصوص، فلا يجوز له أن ينقل هذا الحق إلى غيره.وأما إذا كانت الإجازة غير مخصوصة باسم رجل، فينبغي أن يجوز بيع ورقة الإجازة، مثل طوابع ا لبريد، فإنها لا تكون لرجل مخصوص، وهي في الحقيقة عبارة عن استئجار البريد، لإرسال الرسائل أو غيرها من الأشياء، فلو اشتراها رجل من مكتب ا لبريد ثم باعها إلى آخر، فلا وجه للمنع فيه، وينبغي أن يجوز فيه الاسترباح أيضا، إما لأن الطوابع عين قائمة، وإما لأنها حقوق في ضمن الأعيان، ففارقت الحقوق المجردة، وإما لأن الربح ا لذي يحصله لبائعه أجرة ما عمل في الحصول على الطوابع، فأشبهت أجرة السمسار، وكذلك حكم التذاكر التي لا تكون باسم مخصوص، بل تكون إجازتها مفتوحة لكل من يحملها
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس