باپ نے گودام اور دکانیں خریدی تھیں۔ ان کے دو بیٹے استعمال کررہے ہیں۔ ان دکانوں، اور گوداموں سے ایک بیٹے کو محروم رکھا گیا۔ جب وہ کہتا ہے اس بارے میں۔ باپ کہتا میں نے ان کو نہیں دیا ہوا۔ جب حصہ ہوگا برابر ہوگا اور جب تیسرے بیٹے کو مال رکھنے یا کا م کروانے کے لیے ضرورت پڑتی تو یہی جواب دیا جاتا کیا یہ کرنا ٹھیک ہے ۔ وضاحت کردیں۔
الفتاوی الہندیۃ،لجنةالعلماء برئاسة نظام الدين البلخي(4/ 391) دارالفكر
ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف – رحمه الله تعالى – أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية. و