بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بعض بیٹوں کو گودام استعمال کےلئے دیناکیساہے؟

سوال

باپ نے گودام اور دکانیں خریدی تھیں۔ ان کے دو بیٹے استعمال کررہے ہیں۔ ان دکانوں، اور گوداموں سے ایک بیٹے کو محروم رکھا گیا۔ جب وہ کہتا ہے اس بارے میں۔ باپ کہتا میں نے ان کو نہیں دیا ہوا۔ جب حصہ ہوگا برابر ہوگا اور جب تیسرے بیٹے کو مال رکھنے یا کا م کروانے کے لیے ضرورت پڑتی تو یہی جواب دیا جاتا کیا یہ کرنا ٹھیک ہے ۔ وضاحت کردیں۔

جواب

بعض بیٹوں کو گودام استعمال کرنے کے لیے دینا

ذکر کردہ صورت حال میں اگر معقول وجہ ہے مثلاً مذکورہ دونوں بیٹے مالی اعتبار سے کمزور ہیں یا زیادہ خدمت گزار ہیں یا عیال دار ہیں تو انہیں گودام اور دکان محض استعمال کے لیے دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن بلاوجہ تیسرے بیٹے کو نظر انداز کرنا ہر گز مناسب نہیں ۔
الفتاوی الہندیۃ،لجنةالعلماء برئاسة نظام الدين البلخي(4/ 391) دارالفكر 
ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف – رحمه الله تعالى – أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية. و
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس