بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اونٹ کے پیشاب کا بطور علاج استعمال کرنے کاحکم

سوال

ایک عامل جو جن بھوت کا کام کرتے ہیں ان کا کہنا ہے جس آدمی کو کینسر ہو وہ اونٹی کے دودھ کے برابراونٹی کا پیشاب ملا کر پی لے تو اس سے کینسر ٹھیک ہو جاتا ہے۔ آدمی کو اونٹی کا دودھ تو سمجھ آتا ہے پیشاب کا استعمال سمجھ میں نہیں آتا عامل نے بتایا کہ قرآن وحدیث سے اونٹنی کا پیشاب پینا ثابت ہے۔اس کے بارے میں قرآن وحدیث کی کتب کے حوالہ جات سے ثابت کر کے بتائیں آیا اس عامل کا یہ کہنا اونٹنی کا پیشاب پینا ٹھیک ہے یا نہیں ؟

جواب

اونٹ کے پیشاب سے علاج

واضح رہے کہ اونٹ کا پیشاب ناپاک ہے اور اس کا پینا جائز نہیں ہے البتہ اگر کوئی ماہر دیندار طبیب یا ڈاکٹر کہے کہ اس کے استعمال کے علاوہ بیماری سے شفایابی کا کوئی اور حل نہیں ہے اور اس کے استعمال سے شفا مل جائے گی تو پھر اس کے استعمال کرنے کی اجازت ہے۔
الفتاوی الہندیۃ،لجنةالعلماء برئاسة نظام الدين البلخي(5/ 355) دارالفکر
يجوز للعليل شرب الدم والبول وأكل الميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن شفاءه فيه ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه
الدرالمختار،العلامةعلاءالدين الحصكفي(م:1088هـ) (6/ 389) دارالفکر
كل تداو لا يجوز إلا بطاهر وجوزه في النهاية بمحرم إذا أخبره طبيب مسلم أن فيه شفاء ولم يجد مباحا يقوم مقامه. قلت: وفي البزازية ومعنى قوله – عليه الصلاة والسلام – «إن الله لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم» نفي الحرمة عند العلم بالشفاء دل عليه جواز شربه لإزالة العطش
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ)(1/ 210) دارالفکر
مطلب في التداوي بالمحرم (قوله اختلف في التداوي بالمحرم) ففي النهاية عن الذخيرة يجوز إن علم فيه شفاء ولم يعلم دواء آخر. وفي الخانية في معنى قوله – عليه الصلاة والسلام – «إن الله لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم» كما رواه البخاري أن ما فيه شفاء لا بأس به كما يحل الخمر للعطشان في الضرورة، وكذا اختاره صاحب الهداية في التجنيس فقال: لو رعف فكتب الفاتحة بالدم على جبهته وأنفه جاز للاستشفاء، وبالبول أيضا إن علم فيه شفاء لا بأس به، لكن لم ينقل وهذا؛ لأن الحرمة ساقطة عند الاستشفاء كحل الخمر والميتة للعطشان والجائع
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس