مغرب کی تین رکعات نکل جائیں یاد و نکل جائیں تو اس کی ادائیگی کا کیا طریقہ ہے؟ قعدہ کب کرنا ہے اور قراءت کونسی رکعات میں کرنی ہے؟ اور دوسری نمازوں کے بارے میں بھی راہ نمائی فرمادیں اگر اس کا طریقہ مختلف ہو تو۔
ا مام کے سلام پھیرنے کے بعد چهوٹی ہوئی رکعات ادا کرنے کی مختلف صورتیں اور احکام درج ذیل ہیں
نمبر1۔جس شخص کی ایک رکعت رہ جائے تو کیسے ادا کرے؟
ایک رکعت جس شخص کی رہ جائے تو اس کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہوکرثنا پڑھے، پھر اعوذ باللہ، بسم الله ، سورۃ فاتحہ اور سورت پڑھے۔ پھر رکوع و سجود کر کے قعدہ آخرہ کر کے نماز پوری کرے۔
نمبر2۔جس شخص کی دو رکعات رہ جائے تو کیسے ادا کرے؟
جس شخص کی دو رکعات چھوٹ جائیں
اگر وہ چهوٹی ہوئی رکعتیں چار رکعت والی یادو رکعت والی نماز میں سے ہوں تو ان کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ پہلی رکعت میں ثنا، تعوذ، تسمیہ، سورۃ فاتحہ اور سورت پڑھے گا اس کے بعد رکوع و سجود کر کے دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گا اور دوسری رکعت میں تسمیہ، سورۃ فاتحہ اور سورت پڑھے گا۔ پھر رکوع و سجود کر کے قعدہ ادا کر کے نماز پوری کرلے گا۔ ایسی دو ر کعتوں کے درمیان میں قعدہ نہیں کیا جائے گا۔
اور اگر چهوٹی ہوئی رکعتیں مغرب کی نماز کی ہوں تو ان کی ادائیگی کا طریقہ مذکورہ بالا ہی ہے ،البتہ ان دو رکعات کے درمیان قعدہ کرنا افضل ہے ۔
نمبر3۔جس شخص کی تین رکعات رہ جائے تو کیسے ادا کرے؟
اگر کسی شخص کی تین رکعتیں چھوٹ جائیں چار رکعت والی نماز میں تو ان کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے،کہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑے ہوکر ثنا پڑھے پھر تعوذ،تسمیہ،سورۃ فاتحہ اور سورت پڑھے۔اور پہلی رکعت معمول کے مطابق مکمل کرنے پر قعدہ کرے پھر دوسری رکعت میں بھی سورۃ فاتحہ،سورت پڑھے پھر رکوع وسجود کرکے کھڑا ہو،اور تیسری رکعت میں صرف سورت فاتحہ پڑھے اور معمول کے مطابق اپنی نماز مکمل کرلے۔
نمبر4۔جو شخص قعدہ اخیرہ میں شامل ہو وہ اپنی نماز کیسے ادا کرے؟ جس شخص کی ساری رکعتیں رہ جائیں اور وہ قعدہ اخیرہ میں شامل ہو۔ تو وه نماز کو اسی طرح ادا کرے گا۔ جس طرح نماز ادا کی جاتی ہے ۔