میں ایک کمپنی میں ملازم ہوں جہاں میرا کام ایک محاسب کا ہے۔کمپنی کا ایک ملازم (میرے بڑے بھائی) جو کہ تنخواہ پر ہے، باس کی طرف سے سے اسکو کنسٹرکشن کا کام سپرد کر دیا گیا ۔اب یہ ملازم مستریوں سے دیہاڑی پر کام کرواتا ہے اور خود اپنی طرف سے ٹھیکہ کا حساب لگا کر پیسے وصول کرتا ہے جو کہ مستریوں کو ادا کردہ رقم سے زیادہ بنتی ہے اور اضافی رقم وہ خود لے لیتا ہے اور تنخواہ بھی وصول کرتا ہے۔ ان کے لیئے یہ اضافی رقم لینا شریعت کی رو سے حرام ہے؟ یا حلال ؟ جائز ہے ؟ یا ناجائز؟ اگر حرام اور ناجائز ہے تو کیا میں بھی اس حرام اور ناجائز کام میں انکا شریک سمجھا جاؤنگا ، چونکہ تمام حساب کتاب میرے ذمہ ہے میں نے پیسے دینے ہوتے ہیں، تو وہ جیسے کہتے ہیں میں ویسے ہی لکھتا ہوں بڑے بھائی ہونے کی وجہ سے انکو کچھ کہہ بھی نہیں سکتا، جبکہ میں نے کبھی الحمد للہ ایک روپے کی بھی کرپشن نہیں کی؟
میرے لیے باس سے بات کرنا کئی جہتوں سے انتہائی مشکل ہے۔ میرے لیے یہ کام چھوڑنا بھی ایک چیلنج ہے، سربراہ کمپنی سے قرابت داری ہے انہوں نے مجھے بڑے مان سے رکھا ہے ۔کام چھوڑنے کی صورت میں بے روزگاری کےساتھ ساتھ قرابت داری بھی ختم ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔اس صورت حال میرے لیے شریعت کی رو سے کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ میں آپ کے بڑے بھائی کا غلط بیانی کر کے اضافی رقم لینا ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے، اس کےلیے شرعا یہ رقم حلال نہیں۔ اور یقیناً آپ بھی اس گناہ میں ان کے ساتھ شریک ہیں ۔ آپ پر لازم ہے کہ غلط بیانی میں بھائی کے ساتھ معاونت نہ کریں، بلکہ درست حساب لکھا کریں
قال الله تعالى
{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} [المائدة: 2]
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل(م: 256هـ)(1/ 16) دار طوق النجاة
34 – حدثنا قبيصة بن عقبة، قال: حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله بن عمرو أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ” أربع من كن فيه كان منافقا خالصا، ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا اؤتمن خان، وإذا حدث كذب، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر