ایک شوہر اپنی بیوی سے زنا کرواتاہے دوسرے مردوں سے ، اور حال یہ ہے کہ اس کے بالغ بچے بھی ہیں۔ تو مسئلہ یہ معلوم کرنا تھا کہ یہ بچے اپنی ماں کو دوسروں کے ساتھ زنا کرتے ہوئے برداشت نہیں کر سکتے تو بچوں کی کتنی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کو اس بُرے فعل سے منع کریں۔
جواب
اولاد کو چاہئے کہ موقع پاکر حکمت و موعظہ حسنہ کے ساتھ والدین کے احترام کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کو نصیحت کریں، اور خدا کے عذاب سے ڈرائیں۔ البتہ بے ادبی اور سختی سے پیش نہ آئیں۔ اور ان کے لئے دعاء واستغفار کرتے رہیں۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (4/ 78) سعید
إذا رأى منكرا من والديه يأمرهما مرة، فان قبلا فبها، وإن كرها سكت عنهما واشتغل بالدعاء والإستغفار لهما فإن الله تعالى يكفيه ما أهمه من أمرهما
فإن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر فيه منفعة من أمره ونهاه عن المنكر والأب والأم أحق بأن ينفع لهما …. لكن ينبغى أن لا يعنف على الوالدين ، فإن قبلا فبها، وإلا سكت و ا شتغل بالإستغفار لهما .واللہ اعلم
جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی سرانجام دے رہا ہے
سوال پوچھیں
دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں