بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دوطلاقوں کا حکم

سوال

میری شادی ہوئے تقریباً 4 سال ہو گئے ہیں۔ میری اور میری بیوی کی اچھی خاصی بنتی ہے۔ اور ہم دونوں میں بہت پیار اور محبت ہے۔ اور میری بیوی میری اور میرے والدین اور بہن بھا ئیوں کی بہت عزت کرتی ہے۔ اب میری والدہ کی کزن کی شادی ہے اور وہ 18 دن پہلے جانے کا بول رہی تھی، میری والدہ نے بھی اسے اجازت دےدی۔ اس نے مجھ سے 3، 4 مرتبہ اجازت مانگی لیکن میں نے نہیں دی تو اسی بات پر میری بیوی مجھ سے ناراض ہو گئی اور ہماری کافی بحث ہوئی، میں نے اسے گالی دی اور وہ خاموشی سے سنتی رہی۔ میں نے اسے کہا کہ گندی نسل پتہ نہیں کہاں سے آگئی۔ تو اس نے غصہ میں مجھے کہا کہ مجھے چھوڑ دو ۔ پھر تو میں نے سب کے سامنے اسے یہ الفاظ کہے کہ جاؤ میں نے تجھے طلاق دےدی، یہ الفاظ میں نے دو مرتبہ بولے ۔ لیکن اب میرے گھر والے بھی مجھ سے ناراض ہیں کوئی مجھ سے بات نہیں کر رہا، نہ والدین نہ بہن بھائی ۔کھانا دےدیتے ہیں بات کوئی نہیں کررہا اور میری بیوی نےابھی تک اپنے گھر بھی نہیں بتایا ۔ میری والدہ کہتی ہیں میں اس کو نہیں جانے دونگی یہ میری بیٹی ہے ۔ اب میری بیوی میر ی رہ سکتی ہے یا نہیں؟ جبکہ ہمارے امام مسجد نے بتایا کہ آپ ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ اور میں اسے چھوڑنا بھی نہیں چاہتا۔ تو اب شریعت کا کیا حکم ہے ۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر آپ نے واقعتاً صرف دو طلاقیں دی ہیں۔ اس موقع پر یا اس سے پہلے یا بعد میں کوئی اور طلاق نہیں دی تو آپ کی بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہو گئیں ہیں جن کا حکم یہ ہے کہ عدت کے دوران ہی آپ اپنی بیوی سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اگر رجوع کیے بغیر عدت گزر جائے تو نکاح ختم ہو جائے گا اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے عوض نیا نکاح ضروری ہوگا۔
الدرالمختار،العلامةعلاءالدين الحصكفي(م:1088هـ) (3/ 401)سعيد
(وندب إعلامها بها)… (وندب الإشهاد)
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (3/ 401)سعيد
(قوله: ولو بعد الرجعة بالفعل)… فالسني أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها ويعلمها
الفتاوی الهندية ،لجنةعلماء برئاسة نظام الدين البلخي(1/502)بيروت
فالسني: أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها.شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول. نحو أن يقول لها راجعتك أو راجعت امراتي
  الهداية، أبو الحسن برهان الدين الفرغاني المرغيناني(م: 593هـ)(2/394)
وإذا طلق الرجل امراته تطليقة رجعيةأو تطلقتين فله أن يراجعها في عدتها رضیت بذلك أو لم ترض، لقوله تعالیٰ{ فامسکو ھن بمعروف}: من غیر فصل ولا بد من قيام العدة.لأن الرجعة استدامة الملك ألاترى أنه سمى.إمساكاً وهو الإلقاء وإنما يتحقق الاستدا مة في العدة لأنه لاملك بعد انقضائها
 ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (3/ 399)سعيد
والمستحب أن يراجعها بالقول فافهم. واللہ اعلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء الاحسان

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ، لاہور

شرعی مسائل میں رہنمائی حاصل کیجیے

اپنے دینی و شرعی مسائل کے حل کے لیے
دارالافتاء کے مستند مفتیانِ کرام سے
رہنمائی حاصل کیجیے۔ اپنا سوال واٹس ایپ
کے ذریعے ارسال فرمائیں۔


واٹس ایپ پر اپنا شرعی سوال ارسال کریں

0309-7759396
قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی