بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

عورت غصے میں طلاق مانگےاور شوہر مذاق میں کہے” ایک ،دو، تین، چار، پانچ “سے وقوعِ طلاق

سوال

عورت غصے میں طلاق مانگ رہی ہے اور شوہر نے مذاق میں کہہ دیا” ایک دو تین چار پانچ آپ آزاد ہیں”۔ اس کا شرعی حکم کیاہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً کسی قسم کی طلاق کی نیت نہیں تھی جیسا کہ سوال سے معلوم ہوتا ہے تو ذکر کردہ اعداد ( ایک دو تین وغیرہ) سے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی لیکن “آپ آزاد ہیں” سے ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی۔
خلاصة الفتاوى(2/98)رشيدية
رجل قال لا مراته تر ایکی و تراسه أو قال تو یکی توسه قال أبو القاسم الصفار لا يقع شئ وقال الصدر الشهيد يقع إذا نوى قال و به یفتی قال القاضی وينبغي أن يكون الجواب على التفصيل إن كان ذلك في حال مذاكرة الطلاق أو في حال الغضب يقع الطلاق وإن لم يكن لا يقع إلا بالنية كما قال بالعربية أنت واحدة
 ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (3/ 299)سعید
فإذا قال ” رهاكردم ” أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا
الفتاوی التاتاخانیة،العلامةفرید الدین الدهلوی (م:786هـ)(4/530)العلمیۃ
ولو قال” رهاكرد مت”مضافا إلي المرآة فهو صريح يوجب الرجعة ولايصدق أنه لم ينو به الطلاق خصوصا عند مذاكرة الطلاق
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء الاحسان

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ، لاہور

شرعی مسائل میں رہنمائی حاصل کیجیے

اپنے دینی و شرعی مسائل کے حل کے لیے
دارالافتاء کے مستند مفتیانِ کرام سے
رہنمائی حاصل کیجیے۔ اپنا سوال واٹس ایپ
کے ذریعے ارسال فرمائیں۔


واٹس ایپ پر اپنا شرعی سوال ارسال کریں

0309-7759396
قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی