میں نے قطر میں ملازمت کے دوران بینک سے قرضہ لیا۔ کچھ عرصہ اقساط ادا کیں پھر قطر سے خود نوکری چھوڑ کر واپس پاکستان آ گیا۔ اب قرضہ ادا کرنا چاہتا ہوں، نیت بھی کی ہے دل سے قرضہ ادا کرنے کی اور کوشش بھی کر رہا ہوں کہ دوبارہ قطر میں ملازمت مل جائے کہ جا کر ملازمت کر کے قرضہ ادا کر دوں۔ لیکن اگر ملازمت نہ ملی اور قطر جا کے قرضہ ادا نہ کر سکا تو پھر میرے لیے کیا حکم ہے شریعت میں ؟ موجودہ مالی حالت میری یہ ہے کہ صرف ایک مکان ہے ذاتی جس میں میری بیوی اور چار بچے رہائش پذیر ہیں۔ میں خود ملائشیا میں کام کر رہا ہوں۔ اتنی تنخواہ ہے کہ بمشکل گھر کا خرچہ پورا ہو رہا ہے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں ۔
صورتِ مسئولہ میں آپ پر لازم ہے کہ آپ اپنے ذمہ واجب الاداء قرض کی ادائیگی کی بھر پور کوشش کریں اور حتی الامکان اس میں کوتاہی نہ کریں۔ روز مرہ کے اخراجات کو کم کر کے جتنا ممکن ہے بچت کر کے قرض کی ادائیگی شروع کردیں۔ لیکن اگر پوری کوشش کے باوجود آپ اپنی زندگی میں پورا قرضہ ادا نہ کرسکے تو امید ہے کہ آپ سے مواخذہ نہیں ہوگا۔
مشكاة المصابيح، محمد بن عبد الله الخطيب(م:741ه) (252) اسلامي كتب
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من أخذ أموال الناس يريد أداءها أدى الله عنه ومن أخذ يريد إتلافها أتلفه الله عليه
الفتاوی الهندية ،لجنةعلماء برئاسة نظام الدين البلخي(446/5)رشيدية
رجل مات وعليه قرض ذكر الناطفى نرجوا ان لايكون مواخذاَ فى دار الآخرة اذا كان فى نيته قضاء الدين.واللہ اعلم