بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کیا بیوہ دوسری جگہ شادی کرنے کی وجہ سے شوہر اول کی میراث سے محروم ہو جا تی ہے؟

سوال

شوہر کے انتقال کے بعد عورت کسی دوسری جگہ شادی کرلے تو کیاپہلے شوہر کی میراث میں سے اس عورت کا حصہ ہے یا نہیں ؟

جواب

شوہر کے فوت ہونے کے بعد بیوہ کسی دوسری جگہ شادی کرنےکی وجہ سے پہلے شوہر کی میراث سے محروم نہیں ہو تی۔ بلکہ دوسری جگہ شادی کرنے کے باوجود اپنے مرحوم شوہر کی وراثت میں اہنے حصہ کی حق دار ہو گی (مأخذہ :فتاویٰ محمودیہ۲۰/۴۹۲ ،ادارۃالفاروق۔ احسن الفتاویٰ:۹/۳۰۲،اشاعت الاسلام)
القرآن [النساء: 12]
{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ الخ ——–وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ
الدر المختار (6/ 779)سعید:
ثم شرع في الحجب فقال (ولا يحرم ستة) من الورثة (بحال) ألبتة (الأب والأم والابن والبنت) أي الأبوان والولدان (والزوجان)
فتح القدير (3/ 322)رشیدیۃ:
(قوله والشيء بانتهائه يتقرر) ؛ لأن انتهاءه عبارة عن وجوده بتمامه فيستعقب مواجبه الممكن إلزامها من المهر والإرث والنسب بخلاف النفقة، ويعلم من هذا الدليل أن موتها أيضا كذلك، فالاقتصار على موته اتفاق، ولا خلاف للأربعة في هذه سواء كانت حرة أو أمة
الفتاوى الهندية (6/ 447)
ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء وهو على ضربين:واللہ اعلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس