ایک عدد مکان جس کا رقبہ تقریبا ساڑھے نو مرلہ ہے جو کہ 48 فٹ بائے 50 فٹ بنتا ہے۔ جو کہ ہمارے دادا جان نے وراثت میں چھوڑ ا۔دادا جان کی وفات کے بعد سن 2010 میں یہ مکان وارثین میں تقسیم کیا گیا جس میں چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ باہمی رضامندی سے بہنوں کو اس وقت کے اعتبار سے پیسوں کی صورت میں حصہ مقرر کیا گیا جو کہ ایک ایک لاکھ روپیہ مقرر کیے گئے جو کہ دو بھائی ایک بہن کو ایک لاکھ ادا کریں گے اور دوسرے دو بھائی دوسری بہن کو ایک لاکھ روپے ادا کریں گے۔یعنی 50 ہزار ہر بھائی ادا کرے گا اور بہنیں اپنے پیسوں کا بھائیوں سے مطالبہ بھی کر چکی ہیں لیکن مالی حالات کی کمزوری اور دنیاوی حالات کی وجہ سے بھائی بہنوں کو پیسے ادا نہ کر سکے اور والدہ نے اپنا حصہ سب بھائیوں کو برابر معاف کیا اور باقی مکان کو چاروں بھائیوں پر برابر تقسیم کیا گیا جو کہ 24 بائے 25 فٹ رقبہ بنتا ہے۔جس میں ہر ایک نے اپنی رضا سے جگہ کا انتخاب کیا دو چھوٹے بھائیوں نے فرنٹ سے جگہ کا انتخاب کیا اور دوسرے دو بڑے بھائیوں کو پچھلا حصہ مکان کا دیا گیا اور ہر ایک نے اسٹام پر سائن بھی کیے جس پر گواہ بھی موجود ہیں۔ اور پھر اس حصہ پر تصرف کا حق بھی حاصل کیا گیا جو حصہ مکان کا پچھلی طرف سے بڑے بھائیوں کو دیا گیا اس میں ایک بھائی کو راستہ نہیں مل رہا تھا جس بنیاد پر انہوں نے اپنا حصہ دوسرے بھائی کو بیچ دیا اور رقم بھی وصول کی اور اسکے بدلے انہوں نے اور جگہ لے لی اور اس پر مکان بنا کر اس میں شفٹ ہو گئے اس دوران ایک بھائی نے دوسرے بھائی کے حصہ میں بیت الخلاء بنانے کی اجازت چاہی اس پر اس جگہ کے مالک حصہ دار بھائی نے تصرف کرنے سے منع کیا۔
اب اس تمام تر تقسیم کے بعد جو کہ بیان کی گئی اس کو گیارہ سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور ان گیارہ سال میں ہر ایک اپنی جگہ پر قابض اور مطمئن بھی رہا لیکن گیارہ سال میں ایک بھائی فوت ہو گئے ہیں۔ جبکہ ایک بھائی اپنا حصہ بعد از تقسیم فروخت بھی کر چکے ہیں۔ اب ایک بھائی کہتے ہیں کہ میں اس تقسیم کو نہیں مانتا جبکہ یہ بھائی جو اس تقسیم سے منحرف ہو رہے ہیں انکے سائن اسٹام پر موجود ہیں اور یہ حق تصرف بھی جتلا چکے ہیں اور بار ہا مطالبہ کرتے رہے کہ میں اپنی جگہ الگ کرنا چاہتا ہوں لیکن یہی بھائی اب اس تقسیم سے منکر ہیں
صورتِ مسئولہ میں جب سب بھائیوں کی رضامندی سے مکان کی تقسیم کی گئی اور ہر ایک کو برابر حصہ دیا گیا نیز ہر ایک نے رضامندی سے اپنے حصہ کی جگہ کا انتخاب کیا اور سب اس تقسیم پر راضی اور مطمئن رہے اور طویل عرصہ سے قابض بھی ہیں تو اب کسی ایک بھائی کا اس تقسیم کا انکار کرنا معتبر نہیں۔ دیگر بھائی ازسرِ نو تقسیم کرنے کے شرعاً پابند نہیں۔
بدائع الصنائع،العلامة علاءالدين الكاساني(م:587هـ) (7/ 28)علمیۃ
أن الدار إذا كانت مشتركة بين قوم فقسمها القاضي أو الشركاء بالتراضي فخرجت السهام كلها بالقرعة؛ لا يجوز لهم الرجوع، وكذا إذا خرج الكل إلا سهم واحد؛ لأن ذلك خروج السهام كلها؛ لكون ذلك السهم متعينا بمن بقي من الشركاء، وإن خرج بعض السهام دون البعض فكذلك في قسمة القضاء؛ لأنه لو رجع أحدهم لأجبره القاضي على القسمة ثانيا فلا يفيد رجوعه
وأما في قسمة التراضي فيجوز الرجوع؛ لأن قسمة التراضي لا تتم إلا بعد خروج السهام كلها، وكل عاقد بسبيل من الرجوع عن العقد قبل تمامه كما في البيع ونحوه