ہمارے دادا کا ہمارے والد صاحب سے قبل انتقال ہو گیا تھا ۔ اور انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان جائیداد تقسیم کر دی تھی اور بیٹیوں نے اپنے والد صاحب سے جائیداد کا حصہ اس وقت نہیں لیا اور یہ کہا کہ ہم اپنا حصہ معاف کرتی ہیں ۔ دادا کے ورثاء میں صرف تین بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں۔ 2015 میں ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوا ان کے ورثاء درج ذیل ہیں
چھ بیٹے ہیں اور (ایک نابالغ بیٹے کا انتقال ان کی زندگی میں ہو گیا تھا ) دو بیٹیاں، ایک نواسی،تین نواسے ،بیوہ، ایک بہن جبکہ دوسری بہن کا 2018 میں انتقال ہوا ہے اور مرحومہ بہن کی اولاد اب اپنے ماموں سے والدہ مرحومہ کا حصہ لینے سے انکار کر رہی ہے جبکہ دوسری بہن اور اس کی اولاد مطالبہ کر رہے ہیں۔ سائل کا کہنا یہ ہے کہ ہمارے بڑے بزرگ اکٹھے بیٹھ کر جو پھو پھیوں کیلئے طے کر دیں گے انشاء اللہ ہم سب بھائی ان کو ان کا حصہ دے دیں گے
ذکر کردہ صورتِ حال میں آپ کی پھوپھیاں وراثت سے دستبردار نہیں سمجھی جائیں گی، بلکہ شرعاً انہیں وراثت ملے گی۔ لہٰذا (الف ) سب سے پہلے دادا مرحوم کی میراث میں حقوق مقدمہ علی المیراث (تجہیز و تکفین، قرض، وصیت اگر کی ہو ) ادا کرنے کے بعد بقیہ ترکہ کو کل آٹھ (8) برابر حصوں میں تقسیم کر کے دادا مرحوم کے ہر بیٹے دودو اور ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ ملے گا۔
(ب) اس کے بعد آپ کے والد صاحب کی میراث تقسیم ہو گی۔ جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ آپ کےوالد مرحوم نے اپنی ملکیت میں جو کچھ مال و جائیداد چھوڑا اور جو انہیں آپ کے دادامر حوم سے حصہ ملا اس میں سےحقوق مقدمہ علی المیراث ادا کرنے کے بعد کل مال کے سولہ (16) برابر حصے کر کے ہر بیٹے کو دو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ دیا جائے اور بیوہ کو دو حصے دے دیئے جائیں اور بہن اور نواسی اور تین نواسوں کو کچھ نہیں ملے گا۔ شر عاًوہ محروم ہیں لیکن یہ اپنے نانا کی میراث میں سے اپنی والدہ کے انتقال کے بعد ان کو ملنے والے حصے میں شر عاًوارث ہیں