میرے تین بہن بھائی ہیں میرے والد صاحب نے انتقال سے پہلے انہوں نے اپنی بیٹیوں کو بلا کر فرمایا ” میں نے تمہیں ایک کھیت دیا ہے کھیت دینے کے بعد تم کسی اور جائیداد کا دعوی نہیں کر سکتی، باقی جائیداد میرے بیٹوں کی ہے جیسے گھر، گھر کے دیگر حصے اور آس پاس کی زمین ” سب بہنوں نے اس پر رضا مندی ظاہر کی۔ اب میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے لیکن دو بہنوں نے دوبارہ گھر کے حصے کا دعوی کیا ہے ۔ یہ جاننا ہے کہ والد کی زندگی میں کھیت کے حصے پر رضامندی کے باوجود اب گھر کے حصے کا دعوی کر ناشر عی طور پر کس حد تک جائز ہے۔
صورت مسئولہ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ والد نے بیٹیوں کو کھیت ہبہ کرتے وقت کھیت کی حدود اربع متعین کر کے انکو باقاعدہ مالک بنا کر قبضہ میں نہیں دیا ہے۔ اور بیٹوں کو بھی مکان اور ملحقہ زمین وغیرہ با قاعدہ تقسیم کر کے اپنے تصرف سے خالی کر کے ان کے قبضے میں نہیں دی۔ اگر صورتِ حال ایسی ہے تو بیٹوں اور بیٹیوں دونوں کے حق میں یہ ہبہ صحیح نہیں ہوا ۔ لہذا تمام جائیداد والد کے ترکے میں شامل ہو گی اور بہن بھائیوں کے در میان شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گی۔
الدر المختار (5/ 688)
(و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول)
رد المحتار(5/ 700)
وهب في مرضه، ولم يسلم حتى مات بطلت الهبة، لأنه وإن كان وصية حتى اعتبر فيه الثلث فهو هبة حقيقة، فيحتاج إلى القبض.
رد المحتار) (6/ 655)
واعلم أن الناطفي ذكر عن بعض أشياخه أن المريض إذا عين لواحد من الورثة شيئا كالدار على أن لا يكون له في سائر التركة حق يجوز، وقيل هذا إذا رضي ذلك الوارث به بعد موته فحينئذ يكون تعيين الميت كتعيين باقي الورثة معه كما في الجواهر اهـ. قلت: وحكى القولين في جامع الفصولين فقال: قيل جاز وبه أفتى بعضهم وقيل لا.
بدائع الصنائع (6/ 119)
(ومنها) أن يكون محوزا فلا تجوز هبة المشاع فيما يقسم وتجوز فيما لا يقسم كالعبد والحمام والدن.واللہ اعلم