بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

محکمہ وقف املاک بورڈ سے طویل المیعاد اجارہ پر لی گئی زمین میں میراث کا اجراء/ایسی جگہ کو حاصل کرنے کیلیے خرچ کی گئی رقم پر میراث کا حکم/ایسی جگہ مقدمات کی فیس بھرنے والے وارث کیلیے خرچہ وصول کرنے کا طریقہ

سوال

نمبر۱۔ایک شخص محکمہ متروکہ وقف املاک بورڈ سے وقف کی زمین نوے سال یا ہمیشہ کیلیے یا طویل مدت کیلیے کرائے پر لیتا ہے ، اس زمین کا کرایہ معروف کرایہ سے بہت کم اور معمولی سا ہوتا ہے ۔البتہ اپنے نام لیز کروانے پر بہت خرچہ آتا ہے ۔ اس شخص کی وفات کے بعد کیا یہ لیز شدہ زمین اس کے ورثاء کی طرف منتقل ہو جائے گی؟ اور اس کے حقوق و منافع ورثاء میں تقسیم ہوں گے یا واپس وقف بورڈ کے پاس چلی جائے گی ؟ صورتِ حال یہ ہے کہ اس وقت اس جگہ کی قیمت کمرشل جگہ پر ہونے کی وجہ سے مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہے اور یہ استعمال اور نفع کی جگہ سمجھی جاتی ہے ،نیز ایسی جگہ کو اچھی خاصی رقوم کے بدلے خریدا اور بیچا جاتا ہے اور ادارہ میں لیز پر نام بھی ٹرانسفر کر لیا جاتا ہے،اس کو پرچی پلٹوائی کہتے ہیں ۔
نمبر۲۔ اگر اس پر وراثت نہیں جاری ہوتی تو جو رقم مرحوم نے اس زمین کو حاصل کرنے اور نام پر لیز کرانے کیلیے خرچ کی ہے اس پر وراثت جاری ہوگی یا نہیں ؟
نمبر۳۔ اگر ورثاء میں سے کسی نے اس جگہ پر خرچہ کیا ہو مثلاً اس جگہ پر ہونے والے ناجائز مقدمات کی فیس بھری ہو تو اس خرچہ کا کیا حکم ہے؟

جواب

متفرق مسائل

نمبر۱۔تمہیداً یہ بات واضح رہے کہ اوقاف سے طویل المیعاد اجارہ پر لی گئی زمینوں سے انتفاع اور ان میں میراث جاری ہو نے سے متعلق علامہ شامی نے ؒ اپنے رسالہ ” تحریر العبارۃ فیمن ھواحق با لاجارۃ ” میں اور حضرت مفتی محمد شفیع صاحب ؒ نے اپنے رسالہ “قانونِ اسلامی بابت پٹہ دوامی ” میں یہ موقف ذکر کیا کہ طویل المدت اجارہ پر لی گئی زمینیں کرایہ دار کی ملکیت نہیں ہوتیں صرف کرایہ دار کو اس زمین سے لمبے عرصے تک مخصوص شرائط کے ساتھ انتفاع کا حق حاصل ہوتا ہے ،اس لیے اس میں میراث جاری نہیں ہوگی ۔ اصل کرایہ دار کی وفات کے بعد اس کے ورثاء میں سے صرف بیٹوں کو اس زمین سے انتفاع کا حق چند شرائط(الف)بیٹے نیک و صالح ہوں ۔(ب) اس جگہ کی اجرتِ مثل )یعنی مارکیٹ ویلیو کے مطابق کرایہ) باقاعدگی سے ادا کریں ۔)ج( جیسے ان کے والد نے اس زمین کو آباد رکھا اسی طرح یہ بھی آباد رکھیں ) کے ساتھ ہوگا ،بیٹیوں کو اس سے انتفاع کا حق حاصل نہیں ہوگا ۔(ماخذہ : رسائل ابن عابدین ۲/۱۵۰۔جواہر الفقہ۵/۲۰)
مذکورہ بالا موقف میں بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان انتفاعِ حق میں جو تفریق کی گئی ہے اس موقف کی کوئی دلیل علامہ شامیؒ رحمہ اللہ نے ذکر نہیں کی ،بظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ حکم اپنے عرف کے مطابق بیان کیا ہے ۔ لہذا ہمارے ہاں مذکورہ بالا شرائط کی رعایت کے ساتھ اصل کرایہ دار کی وفات کے بعد جن ورثاء کو ایسی زمینوں کے بارے میں ریاستی قوانین جس طرح بھی ان (زمینوں )سے نفع اٹھانے کا حق دار قرار دیں وہی ان(زمینوں) سے نفع اٹھانے کے حق دار ہو ں گے ۔
نمبر۲۔جو رقم مرحوم اس زمین کو حاصل کرنے کیلیے خرچ کر چکے ہیں ، اس میں میراث نہیں جاری ہو سکتی کیونکہ وہ رقم مرحوم اپنی زندگی میں خرچ کر چکے ہیں ۔اور اس حق کو آگے منتقل کرنے پر جو رقم حاصل ہوتی ہے وہ رقم لینا قانونا ً اگر درست نہیں ہے تو اس رقم کو لینے سے اجتناب کیا جائے ۔ لیکن جو عمارت مرحوم نے اس جگہ پر تعمیر کی ہے اس عمارت کی اگر کوئی قیمت ہو تو اس میں میں سب ورثاء اپنے شرعی حصص کے تناسب سے حق دار ہو ں گے۔
نمبر۳۔ مذکورہ زمین پر ہونے والے مقدمات کی فیس جس وارث نے بھری ہے اگر اس کا یہ تعاون والد یا دیگر تمام ورثاء کے ساتھ باقاعدہ کسی قرض یا شراکت داری وغیرہ کے معاہدہ کے تحت نہیں تھا تو یہ خرچہ اس کی طرف سے تبرع و احسان ہوگا،اور اگر کسی معاملے وغیرہ کے تحت بھائی نے اخراجات کیے ہوں تو اس کی تفصیل لکھ کر دوبارہ سوال کریں ۔
رسائل ابن عابدین، تحرير العبا رةفیمن ھو أحق بالاجارۃ(۲/۱۵۳)
وذكر في الحامدية قبل ذلك أنّھا لا تورث وإنما توجہ للابن القادر علیھا دون البنت ۔۔۔(وذکر العلائی) فی خراج الدر المنتقی تنتقل للابن ولا تعطی البنت حصۃ وان لم یترک ابنا بل بنتا لاتعطی ۔
رسائل ابن عابدین، تحرير العبا رةفیمن ھو أحق بالاجارۃ(۲/۱۵۰)
( وفي ) الخيرية ايضا قبل ذلك ( في رجل استأجر ارضا وقفا من متول عليه اجارة طويلة وغرس فيها ثم مات المستأجر قبل انتهاء المدة فهل تفسخ بموته على قول من جوزها في الوقف للضرورة واذا قلتم نعم فما حكم الغرس
( اجاب ) قال في الهداية في الاوقاف لا تجوز الاجارة الطويلة كيلا يدعى المستأجر ملكها وهي مازاد على ثلاث سنين وهو المختار انتهى . واذا قلنا بجوازها على القول المقابل لهذا تنفسخ الاجارة بموت المستأجر والحال هذه فيكلف وارثه قلع الاشجار ان لم يضر بارض الوقف فان اخر يتملكه الناظر بقيمته مستحق القلع للوقف هذا هو المختار كما نص عليه الأئمة الاخيار وعليه اصحاب المتون وقد صرح في القنية ان له ان يستبقيها باجر المثل وان ابى الموقوف عليهم وبمثله صرح الخصاف وهو خلاف ما في المتون والله تعالى اعلم انتهى
رسائل ابن عابدین:۱۵۱
 ( سئل ) في رجل مزارع في اراضي بيت المال والوقف والتيمار يؤدى قسمها للجهات المذكورة مدة عمره مات عن ابن وبنت هل تقسم بينهما قسمة ما يملكه من الاموال للذكر مثل حظ الأنثيين ام لا وتبقى في يد الابن المتعاطى للفلاحة فيها ولاشئ للبنت فيها ( اجاب) المزارع في الارض السلطانية او الوقف او التيمار لا يملك الارض وانما هو احق بمنفعتها من غيره حيث لم يكن خائنا ولا معطلا لها تعطيلا يضر بيت المال والوقف فلا تقسم قسمة ما يملكه الميت من المال باجماع العلماء وتبقى في یدابنه المزارع حيث كان صالحا كما كان ابوه على وجه الاحقية من الغير والله تعالى اعلم
رسائل ابن عابدین:۱۵۶
(وعلمت ) ان هذا شامل للارض الملك والوقف الا اذا كانت ارض الوقف معدة لذلك كالقرى والمزارع التي اعدت للزراعة والاستبقاء في ايدى فلاحيها الساكنين فيها والخارجين عنها باجرة المثل من الدارهم او بقسم من الخارج كنصفه وربعه ونحو ذلك مما هو قائم مقام اجرة المثل ومثل ذلك الاراضى السلطانية فان ذلك كله لا يتم عمارته والانتفاع به المعتبر الابقائه بايدى المزارعين فانه أولا ذلك ما سكن اهل القرى المذكورة فيها فانهم اذا علموا انهم اذا فهوا الارض وكروا انهارها وغرسوا فيها اخذت منهم واخرجوا منها ما فعلوا ذلك ولا سكنوها فكانت الضرورة داعية إلى بقائها بايديهم اذا كان لهم فيها كردار او مشد مسكة ما داموا يدفعون اجرة مثلها ولم يعطلوها ثلاث سنين كمامر لان تعطيلها اقل من ذلك قديكون لاستراحة الأرض حتى تغل الغلة المقصودة فان عطلوها اكثر سقط حقهم ودفعت لغيرهم
المبسوط للسرخسي (11/ 151) دار المعرفة – بيروت
 (فشركة الملك) أن يشترك رجلان في ملك مال، وذلك نوعان: ثابت بغير فعلهما كالميراث، وثابت بفعلهما، وذلك بقبول الشراء، أو الصدقة أو الوصية. والحكم واحد، وهو أن ما يتولد من الزيادة يكون مشتركا بينهما بقدر الملك، وكل واحد منهما بمنزلة الأجنبي في التصرف في نصيب صاحبه
شرح المجلة (4/319)رشيدية
المادة (1398) إذا عمل شخص  في صنعته ھوو ابنه الذي في عياله فجمیع الكسب لذلك الشخص  ولده يعد معينا لہ كما اذا اعان شخصا ولدہ اللذي في عياله حال غرسه شجرفتلك الشجرة للشخص ولا يكون ولده مشاركا له فيها….. و اجاب ايضاً عن سئوال آخر بقوله : ان ثبت كون ابنه واخويه عابلة عليه. وأمرهم في جميع ما يفعلونه اليه وهم  معينون له فالمال كله له والقول قوله بيمينه فيما لديه فليتق الله فالجزاء امامه و بين يديه . وان لم يكونوا بهذا الوصف بل كان كل مستقلا بنفسه واشتركوا في الأعمال فهو بين الاربعة بلا اشكال وان كان ابنه فقط هو المعين والاخوة الثلاثة بانفسهم مستقلين فهو بينهم اثلاثا بيقين والحكم دائر مع علمه باجماع اهل الدين الحاملين لحكمته اه
رد المحتار (4/ 501)
مطلب في تعريف المال والملك والمتقوم (قوله: مالا أو لا) إلخ، المراد بالمال ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة، والمالية تثبت بتمول الناس كافة أو بعضهم، والتقوم يثبت بها وبإباحة الانتفاع به شرعا
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (ص: 99)
وإن للعرف مجالا في إدراج بعض الأشياء في الأموال، فإن المالية كما يقول ابن عابدين رحمه الله، تثبت بتمول الناس. فلو كانت بعض الحقوق تعتبر في العرف أموالا متقومة، وتعامل بها الناس تعامل الأموال، ينبغي أن يجوز بيعها عندهم أيضا بشروط آتية
1- أن يكون الحق ثابتا في الحال، لا متوقعا في المستقبل
2- أن يكون الحق ثابتا لصاحبه أصالة، لا لدفع الضرر عنه فقط
3- أن يكون الحق قابلا للانتقال من واحد إلى آخر
4- أن يكون الحق منضبطا بالضبط، ولا يستلزم غررا أو جهالة
5- أن يكون في عرف التجار يسلك به مسلك الأعيان والأموال في تداولها
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (ص: 78)
 الحقوق العرفية، وهي التي ثبتت بحكم العرف، وأقره الشرع… الحقوق التي هي عبارة عن حق إحداث عقد مع آخر أو إبقائه، مثل حق استئجار الأرض، أو الدار، أو الحانوت، أو حق البقاء في وظيفة من وظائف الوقف
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (ص: 103)
وقد تحدث الفقهاء عن الاعتياض عن هذا… الحق. فأما الاعتياض عنه بطريق البيع فلم يجوزه أحد.وأما الاعتياض عنه بطريق التنازل والصلح، فقد اختلفت فيه أقوال الفقهاء. فمنهم من منعه بحجة أنه حق مجرد لا يجوز الاعتياض عنه، ومنهم من أجازه.أما الحنفية، فقد صرحت جماعة من متأخريهم بجواز النزول عن الوظائف بمال
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس