بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

جھولےکو کرایہ پر دينے كاحكم

سوال

ایک بندے نے دوسرے بندے سے کرایہ پر جھولا لیا ہے مہینہ 4500 پر اب جس نے لیا ہے وہ یہ کہ رہا ہے کہ مجھے ہر مہینے میں اس کو 4500 روپے دینا ہو گا میں جو اس جھولے سے کماؤں گا وہ شاید ان کا جو کرایہ ہے وہ اس سے کم نکلے لیکن مجھے اس کا کرایا پورا ادا کرنا ہو گا اس صورت میں سود ہو گا یا نہیں ؟

جواب

جھولے کو کرایہ پر دینا

صورت مسؤلہ ميں جھولےکو کرایہ پرلےسکتےہیں ،اوركرايہ دارمالك كو طے شده كرايہ دينے كاپابند ہے،اگرچہ نفع زیادہ حاصل ہو یاکم۔
رد المحتار(6/ 29) دار الفكر
 (قوله بخلاف الجنس) أي جنس ما استأجر به وكذا إذا آجر مع ما استأجر شيئا من ماله يجوز أن تعقد عليه الإجارة فإنه تطيب له الزيادة كما في الخلاصة. (قوله أو أصلح فيها شيئا) بأن جصصها أو فعل فيها مسناة وكذا كل عمل قائم؛ لأن الزيادة بمقابلة ما زاد من عنده حملا لأمره على الصلاح كما في المبسوط
کتاب الاصل(9/415) دار ابن حزم
“شعبة بن الحجاج عن حماد عن إبراهيم في رجل ‌استأجر ‌دارا ‌فآجرها ‌بأكثر ‌من ‌أجرها، أنه قال: ذلك ربا.وقال أبو حنيفة: إذا استأجر الرجل عبدا يخدمه فأراد أن يؤاجره من غيره ليخدمه كان ذلك له، ولا يكون مخالفا، وإن كان استفضل في أجره شيئا لم يطب له الفضل إلا أن يعينه ببعض متاعه، أو يعينه المستأجر الأول في عمله بشيء قليل، أو بشيء بنفسه أو ببعض أجرائه، فإن فعل ذلك طاب له الفضل
الدر المختار (6/ 11) دار الفكر
(فيجب الأجر لدار قبضت ولم تسكن) لوجود تمكنه من الانتفاع، وهذا (إذا كانت الإجارة صحيحة، أما في الفاسدة فلا)
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس