بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

معذور شخص کےلیے عشاء کے وضو سے تہجد کی نمازپڑھنے کاحکم

سوال

ایک بندہ بیماری کی بناء پر معذور ہے اس نے عشاءکےوقت وضو کیا ۔ کیا وہ عشاء کے وضو سے تہجد کی نماز پڑھ سکتا ہے ؟

جواب

جی ہاں ! شرعامعذور شخص عشاء کے وضوسے صبح ِصادق تک جونماز پڑھناچاہے پڑھ سکتاہے،دوبارہ وضوء کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔بشرطیکہ اس دوران کوئی اور ناقض (وضوء کو توڑ نےوالا سبب)پیش نہ آئے۔
الدر المختار (1/ 305) دار الفكر
(وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في – {لدلوك الشمس} [الإسراء: 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق، حتى لو توضأ على الانقطاع ودام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه.وأفاد أنه لو توضأ بعد الطلوع ولو لعيد أو ضحى لم يبطل إلا بخروج وقت الظهر
رد المحتار(1/ 306) دار الفكر
(قوله: ثم يصلي به) أي: بالوضوء فيه أي: في الوقت (قوله: فرضا) أي: أي فرض كان نهر أي: فرض الوقت أو غيره من الفوائت (قوله: بالأولى) ؛ لأنه إذا جاز له النفل وهو غير مطالب به يجوز له الواجب المطالب به بالأولى
بدائع الصنائع (1/ 28) دار الكتب العلمية
حتى أن المستحاضة لو توضأت في أول الوقت فلها أن تصلي ما شاءت من الفرائض، والنوافل ما لم يخرج الوقت
تحفة الفقهاء (1/ 20)دارالکتب العلمیہ
أما في حق صاحب العذر……لا يكون حدثا ما دام وقت الصلاة قائما وحتى إنه إذا توضأ في أول الوقت له أن يصلي ما شاء من الفرائض والنوافل ما لم يخرج الوقت
فتاوی دارالعلوم کراچی (1/544)ادارۃ المعارف
معذور کا حکم یہ ہے کہ ہر وقت کی نماز کے لئے ایک وضو کافی ہے۔ وضو کے بعد اگر قطرہ آجائے تو اس سے وضو نہ ٹوٹے گا ، بشرطیکہ کوئی دوسری چیز وضو توڑنے والی پیش نہ آئی ہو، اس وضو سے اس وقت نماز میں جتنی نمازیں چاہیں خواہ فرض ہوں یا سنتیں یا وتر و نوافل پڑھ سکتے ہیں پھر جب اس نماز کا وقت ختم ہو جائے دوسری نماز کا وقت شروع ہو تو دوبارہ وضو کر لیں اور اس وقت نماز میں جتنی چاہیں اس ایک وضو سے پڑھ لیں ، اسی طرح ہر وقت نماز کے لئے صرف ایک وضو کرنا ہوگا ۔  واللہ اعلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء الاحسان

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ، لاہور

شرعی مسائل میں رہنمائی حاصل کیجیے

اپنے دینی و شرعی مسائل کے حل کے لیے
دارالافتاء کے مستند مفتیانِ کرام سے
رہنمائی حاصل کیجیے۔ اپنا سوال واٹس ایپ
کے ذریعے ارسال فرمائیں۔


واٹس ایپ پر اپنا شرعی سوال ارسال کریں

0309-7759396
قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی