ایک شخص اگر لکھ کر طلاق دے بیوی کو تو طلاق ہوجاتی ہے؟اور اگر بات عدالت میں جائے اور جج صاحب ایک نوٹس کے بعد عورت کو خلع دے دے تو کیا حکم ہے آج کے وقت میں پاکستان میں قانونی بات کیا ہے ؟
جواب
کوئی شخص لکھ کر اپنی بیوی کو طلاق دے تو اس صورت میں بھی طلاق ہوجاتی ہے اور اگر معاملہ عدالت میں چلا یا ہے تو عدالتی کاروائی کی مکمل تفصیل یا عدالتی مقدمہ کی نقل بھیج کر دوبارہ استفتاء کیجیے ۔
جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی سرانجام دے رہا ہے
سوال پوچھیں
دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں