میرا ایک دوست کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرتا رہتا ہے، اور وہ اس چیز کو حلال بھی سمجھتا ہے۔ اس کے چچا نے ایک سال پہلے اسے 6 لاکھ روپے دیے تاکہ وہ انویسٹ کرے۔ ان دونوں کے درمیان یہ طے پایا کہ چاہے وہ 6 لاکھ سے 50 لاکھ کمائے یا 70 لاکھ، ایک سال بعد وہ 3 لاکھ روپے منافع کے طور پر چچا کو دے گا۔ یعنی طے یہ ہوا کہ وہ ایک سال بعد چچا کو 9 لاکھ روپے (اصل رقم + منافع) واپس کرے گا، قطع نظر اس کے کہ اسے نفع ہو یا نقصان۔ ڈیل کرتے وقت نقصان (loss) کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اس کی ساری انویسٹمنٹ ڈوب چکی ہے، سال بھی مکمل ہو گیا ہے، اور اب وہ اپنی جیب سے 9 لاکھ روپے (یعنی 6 لاکھ اصل رقم اور 3 لاکھ منافع) چچا کو واپس کر رہا ہے، حالانکہ منافع کمایا نہیں گیا۔میرا سوال یہ ہے کہ: کیا یہ معاملہ سود (ربا) کے زمرے میں آتا ہے؟ کیونکہ میرے علم میں ہے کہ فکسڈ (طے شدہ) منافع شرعی طور پر جائز نہیں ہوتا۔ اب مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ رشتہ داری خراب نہیں کرنا چاہتا، اس لیے پیسے واپس کر رہا ہے، لیکن وہ چاہتا ہے کہ شرعی پہلو بھی واضح ہوں۔ اس معاملے کی شرعی حیثیت واضح فرما دیں۔
صورتِ مسئولہ میں آپ کے دوست اور ان کے چچا کے درمیان جو معاملہ طے پایا ہے مختلف وجوہات کی بنا پر یہ معاملہ شرعاً و قانوناً ناجائز ہے ،ان میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ یہ معاملہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کیلیے کیا گیا ہے اور کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنا شرعاًوقانوناً درست نہیں ہے ،دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ جو معاملہ بظاہر مضاربت کا معلوم ہوتا ہے، اس معاملہ (مضاربت )میں رب المال کا چھ لاکھ سرمایہ کاری کے طور پر دے کر اس پر متعین نفع (تین لاکھ) لینے کی شرط لگانا ناجائز اور سود ہے اور اس شرط فاسد کی وجہ سے بھی مذکورہ عقد ابتدا ہی سے فاسد ہو گیا تھا،اور پھر اس معاملہ میں چونکہ نقصان ہو اہے ، اگر یہ نقصان مضارب کی کوتاہی کے بغیر ہوا ہے یعنی مضارب نے مکمل دیانتداری کے ساتھ کاروبار کرنے کی مکمل کوشش کی،کسی شرط کی خلاف ورزی نہیں کی اور اس میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی و غفلت نہیں برتی تو اس صورت میں سارا کا سارا نقصان رب المال کا ہوگا۔
لہذا مضارب سے مضاربت میں ہونے والے نقصان کی تلافی کا مطالبہ کرنا یا اس پر تاوان ڈالنا شرعاًدرست نہیں ہے۔ (فتاوی عثمانی:3/54۔معارف القرآن،شرکت و مضاربت عصرِ حاضر میں:238)
بدائع الصنائع (6/ 98):
(وأما) القسم الذي ليس للمضارب أن يعمله أصلا ورأسا، فشراء ما لا يملك بالقبض وما لا يجوز بيعه فيه إذا قبضه.
(أما) الأول فنحو شراء الميتة والدم والخمر والخنزير وأم الولد والمكاتب والمدبر؛ لأن المضاربة تتضمن الإذن بالتصرف الذي يحصل به الربح، والربح لا يحصل إلا بالشراء والبيع، فما لا يملك بالشراء لا يحصل فيه الربح، وما يملك بالشراء لكن لا يقدر على بيعه، لا يحصل فيه الربح أيضا، فلا يدخل تحت الإذن، فإن اشترى شيئا من ذلك كان مشتريا لنفسه لا للمضاربة، فإن دفع فيه شيئا من مال المضاربة يضمن، وإن اشترى ثوبا أو عبدا، أو عرضا من العروض بشيء مما ذكرنا سوى الميتة والدم، فالشراء على المضاربة؛ لأن المبيع هنا مما يملك بالقبض ويجوز بيعه، فكان هذا شراء فاسدا والإذن بالشراء المستفاد بعقد المضاربة يتناول الصحيح والفاسد.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 275):
المادة (1427) إذا تلف مقدار من مال المضاربة فيحسب في بادئ الأمر من الربح ولا يسري إلى رأس المال , وإذا تجاوز مقدار الربح وسرى إلى رأس المال فلا يضمنه المضارب سواء كانت المضاربة صحيحة أو فاسدة.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 275):
المادة (1426) استحقاق رب المال للربح هو بماله فلذلك يكون جميع الربح له في المضاربة الفاسدة ويكون المضارب بمنزلة أجير المثل لكن لا يتجاوز المقدار المشروط حين العقد ولا يستحق أجر المثل أيضا إن لم يكن ربح.
مجمع الضمانات (303):
“ثم المدفوع إلى المضارب أمانة في يده لأنه يتصرف فيه بأمر مالكه لا على وجه البدل والوثيقة، وهو وكيل فيه لأنه يتصرف فيه بأمر مالكه فإذا ربح فهو شريك فيه، وإذا فسدت ظهرت الإجارة حتى استوجب العامل أجر مثله، وإذا خالف كان غاصبا لوجود التعدي منه على مال غيره”.
البحرالرائق:5/191):
قال: (ولاتصح إلا أن یکون الربح بینهما مشاعاً، فإن شرط لأحدهما دراهم مسماةً فسدت )؛ لما مر في الشرکة، وکذا کل شرط یوجب الجهالة في الربح یفسدها لاختلال المقصود.
الاختيار لتعليل المختار (2/ 57):
(وإذا فسدت الإجارة يجب أجر المثل) لأن التسمية إنما تجب بالعقود الصحيحة.