نمبر۱۔ اگر کوئی مسبوق (تاخیر سے پہنچنے والا مقتدی) امام کے قعدۂ ثانیہ (آخری تشہد) کے دوران جماعت میں شامل ہو، اور وہ تکبیرِ تحریمہ کہہ کر ابھی بیٹھنے بھی نہ پایا ہو کہ امام نے سلام پھیر دیا، تو ایسی صورت میں کیا اس کی جماعت شمار ہوگی؟ اگر جماعت مل گئی ہے تو کیا اس پر تشہد پڑھنا واجب ہے؟ اور اگر تشہد واجب ہو اور وہ اسے نہ پڑھے تو کیا سجدۂ سہو لازم آئے گا یا نہیں؟
نمبر۲۔ مسبوق قعدہ اولی کے وقت پہنچا تو تکبیر کہہ کر بیٹھ گیا فوراً امام قعدہ اولی سے کھڑا ہو گیا تو کیا مسبوق پر تشہد مکمل کرنا واجب ہے یا کھڑا ہونا۔ نیز تشہد پڑھنے کی صورت میں تیسری رکعت کا صرف قیام یار کوع سمیت گزر جانے کا احتمال ہو پھر کیا کرے ؟ اور اگر قیام یا قیام مع رکوع گزر جائے تو کیا حکم ہے ؟
صورت مسئولہ میں جب مسبوق مقتدی نےامام کےدائیں جانب السلام علیکم میں سلام کےمیم تک پہنچنےسےپہلےامام کی نمازمیں شریک ہونےکی نیت سےتکبیرتحریمہ کہہ دی تووہ جماعت میں شامل ہوگیا،لہذااگرمسبوق تکبیرتحریمہ کہہ کربیٹھ گیااوراس کےبیٹھتے ہی امام اگلی رکعت کےلئےاٹھ گیا،یاسلام پھیردیا،تومقتدی کوتشہدمکمل کرناچاہیئےاگرچہ اگلی رکعت کاقیام یاقیام مع الرکوع چلاجائے۔اوراگرمسبوق تکبیرتحریمہ کےبعدابھی قیام ہی کی حالت میں ہویابیٹھنےلگےکہ امام کھڑاہوجائےتوتشہدپڑھنےکی بجائےامام کی اتباع کرے۔
الدر المختار (1/ 550)سعيد
نية المؤتم الاقتداء
رد المحتار (1/ 550)سعيد
(قوله نية المؤتم) أي الاقتداء بالإمام، أو الاقتداء به في صلاته أو الشروع فيها أو الدخول فيها
حاشية الطحطاوي( ص: 251)قديمي
فلو إقتدى به بعد لفظ السلام الأول قبل عليكم لا يصح عند العامة
الدر المختار (1/ 468)
وتنقضي قدوة بالأول قبل عليكم على المشهور عندنا وعليه الشافعية
رد المحتار(1/ 468)
(قوله وتنقضي قدوة بالأول) أي بالسلام الأول. قال في التجنيس: الإمام إذا فرغ من صلاته فلما قال السلام جاء رجل واقتدى به قبل أن يقول عليكم لا يصير داخلا في صلاته
الفتاوى الهندية (1/ 90)
إذا أدرك الإمام في التشهد وقام الإمام قبل أن يتم المقتدي أو سلم الإمام في آخر الصلاة قبل أن يتم المقتدي التشهد فالمختار أن يتم التشهد. كذا في الغياثية وإن لم يتم أجزأه
الدر المختار (1/ 496)
(وجب متابعته) وكذا عكسه فيعود ولا يصير ذلك ركوعين (بخلاف سلامه) أو قيامه لثالثة (قبل تمام المؤتم التشهد) فإنه لا يتابعه بل يتمه لوجوبه، ولو لم يتم جاز
رد المحتار (1/ 496)
(قوله فإنه لا يتابعه إلخ) أي ولو خاف أن تفوته الركعة الثالثة مع الإمام كما صرح به في الظهيرية
فتاوی محمودیہ(۶/۵۵۱فاروقیہ )
کفایۃ المفتی (۴/۴۳۲ادارۃ الفاروق کراچی
فتاوی عثمانی(۱/۴۲۲)