بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سکول میں شرکت کی ایک صورت

سوال

سائل ایک سکول کا مالک ہے اور یہ سکول ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور سرمایہ کاری چل رہی ہے اور میں اس پر اپنی جمع پونجی انویسٹ کر چکا ہوں ۔صورتحال یہ تھی کہ ادارے کو اپنے موجودہ اخراجات پورا کرنے اور نفع بخش ہدف حاصل کرنے کے لیے مزید سرمایہ کاری کی اشد ضرورت تھی اور اس کے لیے قرض کا حصول ناگزیر ہو گیا۔ کافی دوڑ دھوپ کے بعد سکول ہی کے طلباء میں سے ایک بچی کے والدین سے بات ہوئی جنہوں نے اپنی رقم میزان بینک میں ٪1.83فیصد ماہانہ منافع کی بنیاد پر ڈیپازٹ کر رکھی تھی۔ تو سائل نے سرمایہ کاری کے حصول کے لیے انہیں بینک سے دوگنا منافہ یعنی٪3.7 ادا کرنے کی پیشکش کی جو کہ انہوں نے قبول کی اور سرمایہ کاری پر رضامند ہوئے انہوں نے مبلغ 15 لاکھ روپے انویسٹ کیے۔ تو اگلا معاملہ یہ تھا کہ انہیں منافع ادائیگی کس بنیاد پر کی جائے گی ،کیونکہ اسکول تو ایک سروس انڈسٹری ہے اور ہم اشیاء یعنی پروڈکٹس کے بجائے اپنی سروسز فروخت کرتے ہیں تو غور و خوض کے بعد یہ معاملہ نفع نقصان کی بنیاد پر اس طرح طے ہوا کہ ایک کلاس یعنی K.G)) کو دکان تصور کرتے ہوئے اس سے حاصل ہونے والی ماہانہ فیس جو کہ تقریبا 81 ہزار روپے بنتی ہے کا٪ 65 سرمایہ کار کو اس طرح ادا کیا جائے گا کہ طلباء کی موجودہ تعداد میں جتنا اضافہ ہوا تو سرمایہ کار کا منافع بھی یقینا 65 فیصد کے حساب سے رقم کی صورت میں بڑھتا جائے گا کیونکہ فیس وصولی میں اضافہ ہو جائے گا اور اسی طرح اگر تعداد کم ہوتی ہے تو فیس وصولی بھی کم ہوگی تو اس کا٪ 65 فیصد بھی کم ہو جائے گا یہاں طلبہ و طالبات کی تعداد میں کمی اور اضافے کو منافع میں فرق کی بنیاد بنایا گیا ہے جبکہ رقم فکس نہیں کی گئی۔
اب خلاصہ یہ ہے کہ 15 لاکھ کی سرمایہ کاری پر٪ 3.7ماہانہ منافع کی ادائیگی کرنی ہے ۔جو کہ مذکورہ کلاس سے فی الوقت حاصل ہونے والی ماہانہ فیس وصولی کا ٪65 ہی بنتی ہے ۔اب اگر تعداد کم یا زیادہ ہوتی ہے تو٪ 65 ادائیگی ہوگی لیکن رقم میں کمی بیشی ہوتی رہے گی۔آپ سے گزارش ہے کہ مذکورہ بالا مسئلے کی بابت ہماری راہ نمائی فرمائیں کیا یہ معاہدہ شرعی نقطہ نظر سے درست ہے ؟ اگر نہیں تو ہم کس طرح اس میں ترمیم کر سکتے ہیں؟ تاکہ غیر شرعی معاملہ سے اجتناب ممکن ہو سکے۔
تنقیح
نمبر ۱۔آپ کا پارٹنر عامل ہے یا نہیں ۔ اس کی حیثیت واضح کریں ۔
نمبر ۲۔سکول ابتدائی مراحل میں ہے ” کا کیا مطلب ہے ؟زیرِ تعمیر ہے یا کلاسز چل رہی ہیں ؟سکول کی عمارت اپنی ذاتی ہے یا کرایہ پر ہے ؟
جوابِ تنقیح
نمبر۱۔دوسرا شریک غیر عامل ہے ۔ کوئی عمل اس کے ذمہ نہیں ۔
نمبر۲۔سکول میں تعلیم شروع ہوئے تین سال ہو چکے ہیں۔
نمبر۳۔عمارت کرائے پر ہے ذاتی نہیں ۔

جواب

سکول میں پارٹنرشپ

واضح رہے کہ سرمایہ پر کسی بھی قسم کا متعین نفع لینا سود کے حکم میں ہے، اس سے اجتناب لازم ہے ۔ لہذا مذکورہ صورت میں آپ کےلیے سرمایہ دار سے پندرہ لاکھ روپے لےکر اس پر متعین نفع(٪7. 3) لینا ناجائز ہے ۔
البتہ شراکت داری کی بنیاد پر معاملہ کرنے کا درست طریقہ یہ ہے کہ آپ سب سے پہلے سکول کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے قیمت لگوائیں اور اس میں سرمایہ کار کے پندرہ لاکھ جمع کر لیں اور پھر اپنی اپنی رقم کے تناسب سے اپنے حصص متعین کرلیں بایں معنیٰ کہ جس کی جتنی رقم ہے وہ اس کے تناسب سے اسکول میں حصہ دار اور مالک ہو گا۔ اب اخراجات منہا کرنے کے بعد اس سکول سے حاصل ہونے والے نفع کے بارے میں یہ طے کر لیں کہ اس میں کتنے فیصد نفع فریقِ اول اور کتنے فیصد نفع فریقِ ثانی کا ہوگا اور نقصان سرمایہ کے تناسب سے فریقین کے ذمہ ہوگا۔لیکن اس بات کا خیال رہے کہ غیر عامل شریک کے لیے اپنے لگائے ہوئے سرمائے کے تناسب سے زیادہ شرح نفع طے کرانا یا لینا جائز نہیں ۔
مندرجہ بالا طریقہ کے مطابق شراکت داری کا معاملہ کرنا شرعاً درست اور نفع حلال ہوگا۔
مصنف ابن أبي شيبة (4/ 267)
عن شعبة، قال: سألت الحكم وحمادا وقتادة عن رجلين، اشتركا فجاء أحدهما بألفين، وجاء الآخر بألف، فاشتركا واشترطا أن الوضيعة بينهما، والربح نصفان، فقال: الربح على ما اشترطا عليه،  والوضيعة على المال
الفتاوى الهندية (2/ 302)
وأن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة وأن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة، كذا في البدائع
رد المحتار(4/ 312)
 وحاصل ذلك كله أنه إذا تفاضلا في الربح، فإن شرطا العمل عليهما سوية جاز: ولو تبرع أحدهما بالعمل وكذا لو شرطا العمل على أحدهما وكان الربح للعامل بقدر رأس ماله أو أكثر ولو كان الأكثر لغير العامل أو لأقلهما عملا لا يصح وله ربح ماله فقط
فتاویٰ عثمانی (3/40،38)معارف القرآن
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس