بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

غصے کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے

سوال

میرے اور میری بیوی کے درمیان رات تقریباً 9 بجے جھگڑا ہوا۔ جھگڑے کے دوران میں نے محض بیوی کو ڈرانے کے لیے یہ کہا کہ اگرتم نے یہ بات دوبارہ کہی تو میں تمہیں طلاق دوں گا ۔ بیوی ڈر گئی اور خاموش رہی، اور ہم دونوں سو گئے۔
اگلے دن صبح تقریباً 10 بجے بیوی نے دوبارہ جھگڑا شروع کیا اور طلاق کا مطالبہ کیا۔ میں نے طلاق دینے کی نیت کے بغیر صرف ڈرانے کے مقصد سے کہا کہ میں طلاق لکھ کر دے دیتا ہوں۔ بیوی بار بار کمرے سے جانے لگتی اور کہتی کہ بعد میں طلاق لکھ کر بھیج دینا۔ یہ صورتحال تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک رہی۔ میں نے دو خالی اسٹامپ پیپر نکالے مگر بیوی نے دونوں پھاڑ دیے، اس دوران کوئی تحریری طلاق نہیں لکھی گئی۔
بعد ازاں بیوی کے مسلسل ناگوار رویے سے میرا غصہ شدید ہوگیا۔ گھر میں موجود والدہ اور شادی شدہ بہن بھی آگئیں۔ شدید غصے اور اپنے اوپر قابو نہ رہنے کی حالت میں میں نے بیوی سے کہا: “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” جس پر بہن نے فوراً میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور والدہ و بہن نے مجھے کمرے سے باہر نکال دیا۔ اسی دوران بیوی دوسرے دروازے سے باہر آکر دوبارہ جھگڑا کرنے لگی۔ شدید غصے کی حالت میں میرے منہ سے یہ الفاظ دوبارہ نکلے”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”۔
بعد از واقعہ مجھے شدید ندامت ہوئی، بہت رویا اور سخت صدمہ پہنچا۔ چار سال گزر جانے کے باوجودمیں نے دوسری شادی نہیں کی اور نہ ہی سسرال والوں کے مسلسل دباؤ کے باوجود کوئی تحریری طلاق دی، کیونکہ نہ اس وقت طلاق دینے کا ارادہ تھا اور نہ اب ہے۔
میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حلفاً بیان کرتا ہوں کہ شدید غصے کی وجہ سے طلاق کے الفاظ ادا ہوئے، اس وقت قصد و اختیار باقی نہ رہا تھا، اور طلاق دینے کی نیت ہرگز نہیں تھی۔

جواب

واضح رہے کہ سخت غصہ کی وہ حالت جس میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی،اس سےمراد وہ غصہ ہے جس کی وجہ سے کسی انسان کی کیفیت ایسی ہوجائے کہ اس سے خلافِ عادت ایسی باتیں اور حرکتیں سرزد ہوں جو کوئی بھی سمجھدار آدمی نہیں کرتا اور دیکھنے والا یہ محسوس کرے کہ اس کی عقل میں واضح خلل واقع ہوچکا ہے۔ سوال میں ذکرکردہ تفصیل اور سائل سے زبانی استفسار سے غصہ کی جو کیفیت معلوم ہوئی،وہ اس درجہ کی نہیں تھی جو اوپر مذکور ہوئی۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں آپ کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے اور نکاح ختم ہوچکا ہے، اب موجودہ صورتِ حال میں رجوع نہیں ہوسکتا اور دوبارہ آپس میں نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔
رد المحتار،ابن عابدين الشامي(م:1252هـ)(3/ 244)دارالفكربيروت
وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها:أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني:أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. الثالث:من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش… فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل
 قال الله تبارك وتعالى: [البقرة:230]
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُوْدَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ}
صحيح البخاري ،محمد بن إسماعيل (م:256 هـ) (7/ 43) دار طوق النجاة
وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك
الفتاوى الهندية ، لجنة علماء برئاسة نظام الدين البلخي (1/ 473) دار الفكر
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء الاحسان

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ، لاہور

شرعی مسائل میں رہنمائی حاصل کیجیے

اپنے دینی و شرعی مسائل کے حل کے لیے
دارالافتاء کے مستند مفتیانِ کرام سے
رہنمائی حاصل کیجیے۔ اپنا سوال واٹس ایپ
کے ذریعے ارسال فرمائیں۔


واٹس ایپ پر اپنا شرعی سوال ارسال کریں

0309-7759396
قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی