میرے اور میری بیوی کے درمیان رات تقریباً 9 بجے جھگڑا ہوا۔ جھگڑے کے دوران میں نے محض بیوی کو ڈرانے کے لیے یہ کہا کہ اگرتم نے یہ بات دوبارہ کہی تو میں تمہیں طلاق دوں گا ۔ بیوی ڈر گئی اور خاموش رہی، اور ہم دونوں سو گئے۔
اگلے دن صبح تقریباً 10 بجے بیوی نے دوبارہ جھگڑا شروع کیا اور طلاق کا مطالبہ کیا۔ میں نے طلاق دینے کی نیت کے بغیر صرف ڈرانے کے مقصد سے کہا کہ میں طلاق لکھ کر دے دیتا ہوں۔ بیوی بار بار کمرے سے جانے لگتی اور کہتی کہ بعد میں طلاق لکھ کر بھیج دینا۔ یہ صورتحال تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک رہی۔ میں نے دو خالی اسٹامپ پیپر نکالے مگر بیوی نے دونوں پھاڑ دیے، اس دوران کوئی تحریری طلاق نہیں لکھی گئی۔
بعد ازاں بیوی کے مسلسل ناگوار رویے سے میرا غصہ شدید ہوگیا۔ گھر میں موجود والدہ اور شادی شدہ بہن بھی آگئیں۔ شدید غصے اور اپنے اوپر قابو نہ رہنے کی حالت میں میں نے بیوی سے کہا: “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” جس پر بہن نے فوراً میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور والدہ و بہن نے مجھے کمرے سے باہر نکال دیا۔ اسی دوران بیوی دوسرے دروازے سے باہر آکر دوبارہ جھگڑا کرنے لگی۔ شدید غصے کی حالت میں میرے منہ سے یہ الفاظ دوبارہ نکلے”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”۔
بعد از واقعہ مجھے شدید ندامت ہوئی، بہت رویا اور سخت صدمہ پہنچا۔ چار سال گزر جانے کے باوجودمیں نے دوسری شادی نہیں کی اور نہ ہی سسرال والوں کے مسلسل دباؤ کے باوجود کوئی تحریری طلاق دی، کیونکہ نہ اس وقت طلاق دینے کا ارادہ تھا اور نہ اب ہے۔
میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حلفاً بیان کرتا ہوں کہ شدید غصے کی وجہ سے طلاق کے الفاظ ادا ہوئے، اس وقت قصد و اختیار باقی نہ رہا تھا، اور طلاق دینے کی نیت ہرگز نہیں تھی۔
واضح رہے کہ سخت غصہ کی وہ حالت جس میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی،اس سےمراد وہ غصہ ہے جس کی وجہ سے کسی انسان کی کیفیت ایسی ہوجائے کہ اس سے خلافِ عادت ایسی باتیں اور حرکتیں سرزد ہوں جو کوئی بھی سمجھدار آدمی نہیں کرتا اور دیکھنے والا یہ محسوس کرے کہ اس کی عقل میں واضح خلل واقع ہوچکا ہے۔ سوال میں ذکرکردہ تفصیل اور سائل سے زبانی استفسار سے غصہ کی جو کیفیت معلوم ہوئی،وہ اس درجہ کی نہیں تھی جو اوپر مذکور ہوئی۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں آپ کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے اور نکاح ختم ہوچکا ہے، اب موجودہ صورتِ حال میں رجوع نہیں ہوسکتا اور دوبارہ آپس میں نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔