میرا بھائی ہے اور اچھی سروس میں ہے کبھی کبھا ر با ہر معاشرے میں دوستوں کے ساتھ باتیں کرنے میں ایسے اقوال ، افعال ادا کرتے ہیں کہ ان کی کیفیت جنون جیسی ہوتی ہے اور اکثر اوقات گھر میں کپڑے اتار کر دن رات گھر میں ننگا پھرتا رہتا ہے ۔ اس کیفیت کی وجہ سے ان دنوں میں ڈیوٹی پر نہیں جاتا ہے، اور اس دوران کبھی ایسے الفاظ ادا کرتے ہیں، جن کا تعلق طلاق معلق سے ہوتا ہے” جیسا “کہ اگر آپ لوگوں نے میرے بھائی کی شادی کی تو میری یہ بیوی مجھ پر طلاق ہے ۔ اور والدین تنگ ہوکر دوسرے گھر میں رہتے ہیں تو ان کی یہ کیفیت جنون کب تک معتبر ہے۔اور ان کے طلاق معلق سے متعلق الفاظ کا شرعی حکم کیا ہے؟
طلاق واقع ہونے کے لئے شوہر کا عاقل بالغ ہو نا ضروری ہے ۔ مجنون ،معتوہ (کم فہم ،کم عقل)،اور بچے کی طلاق شرعاً معتبر نہیں ہے ۔لہٰذا صورت مسؤلہ میں اگراس نے واقعی اسی جنون کی حالت میں طلاق معلق دی ہو تو یہ الفاظ طلاق شرعاً معتبر نہیں ہے ،واضح رہے کہ اس کی یہ حالت مسلسل جنون کی نہیں ہے۔ لہٰذا جنون کی کیفیت ختم ہونے کے بعد وہ صحیح تندرست اور عاقل شمار ہوگا۔ (ماخذہ:فتاوی رحیمیہ۸/۲۶۳: دارالاشاعت ۔عزیز الفتاوی ۱/۴۸۲: حقانیہ )
الفتاوى الهندية (1/ 353)بیروت
ولا يقع طلاق الصبي وإن كان يعقل والمجنون والنائم والمبرسم والمغمى عليه والمدهوش هكذا في فتح القدير. وكذلك المعتوه لا يقع طلاقه أيضا وهذا إذا كان في حالة العته أما في حالة الإفاقة فالصحيح أنه واقع هكذا في الجوهرة النيرة
الجوهرة النيرة (2/ 33)رشدیہ
وله (ويقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا) سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها هازلا كان أو جادا لقوله – عليه الصلاة والسلام – «كل الطلاق جائز إلا طلاق الصبي والمجنون» قوله (ولا يقع طلاق الصبي والمجنون) ؛ لأنه ليس لهما قول صحيح، وكذا المعتوه لا يقع طلاقه أيضا، وهو من كان مختلط الكلام بعض كلامه مثل كلام العقلاء وبعضه مثل كلام المجانين وهذا إذا كان في حال العته أما في حالة الإفاقة فالصحيح أنه واقع
رد المحتار (3/ 243)سعید
(قوله من العته) بالتحريك من باب تعب مصباح (قوله وهو اختلال في العقل) هذا ذكره في البحر تعريفا للجنون وقال ويدخل فيه المعتوه. وأحسن الأقوال في الفرق بينهما أن المعتوه هو القليل الفهم المختلط الكلام الفاسد التدبير، لكن لا يضرب ولا يشتم بخلاف المجنون اهـ وصرح الأصوليون بأن حكمه كالصبي إلا أن الدبوسي قال تجب عليه العبادات احتياطا. ورده صدر الإسلام بأن العته نوع جنون فيمنع وجوب أداء الحقوق جميعا كما بسطه في شرح التحرير
المحيط البرهاني (3/ 206)بیروت
الفصل الثالث: في بيان من يقع طلاقه ومن لا يقع طلاقه طلاق الصبي غير واقع، وكذلك طلاق المجنون والمعتوه، وقيل في الحد الفاصل بين المعتوه والمجنون والعاقل أن العاقل من يستقيم كلامه وأفعاله فيكون هذا غالباً، وذلك غالباً فيكون سواء، قيل أيضاً: المجنون من يفعل هذه الأفعال لا عن قصد والعاقل يفعل ما يفعله المجانين في الأحايين لكن لا عن قصد يعني يفعل على ظن الصلاح، والمعتوه من يفعل ما يفعله المجانين في الأحايين لكن عن قصد يعني يقصد فعله مع ظهور وجه الفسادواللہ اعلم