بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

خدا کی قسم اس بیٹھک کو کبھی بھی مشترک رہنے نہیں دوں گا، اگر مشترک رہنے دیا تو میری بیوی مجھ پر طلا ق ہے ، وہ میری بہن ہوگی الفاظ کا حکم

سوال

دو بھائیوں کے درمیان ایک بیٹھک مشترکہ ملکیت میں تھی ہمارے علاقے میں عام دستور یہ ہے کہ جائیداد کی تقسیم کے وقت حجرہ یا بیٹھک کو عموما ً مشترک ہی رہنے دیا جاتا ہے ، کیونکہ ہر بھائی کے لیے الگ بیٹھک بنانا آسان نہیں ہوتا ، البتہ اگر اسے مشترک نہ رکھا جائے تو اس کی قیمت مقرر کرکے کسی ایک بھائی کو دے دی جاتی ہے،اور وہ دوسرے بھائی کے حصے کی قیمت ادا کر دیتا ہے ۔
چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی سے کہا : اس بیٹھک کو اب یا تو تم لے لو یا میں لے لیتا ہوں ( یعنی ہم دونوں میں سے ایک دوسرے کا حصہ خرید لے ) “خدا کی قسم !اس بیٹھک کو کبھی بھی مشترک رہنے نہیں دوں گا اور اگر میں نے اسے مشترک رہنے دیا تو میری بیوی مجھ پر طلاق ہے ، وہ میری ماں بہن ہوگی ۔”
یہ الفاظ کہتے وقت چھوٹے بھائی کی مالی حیثیت بڑے بھائی سے بہتر تھی ، اس لیے اس کا خیال تھا کہ بالآخر یہی بیٹھک اسے مل جائے گی ۔ لیکن تقسیم کے وقت جرگہ کے سامنے بڑے بھائی نے کہا کہ وہ خود بیٹھک خریدے گا،چنانچہ اس نے چھوٹے بھائی کا حصہ خرید لیا اور بیٹھک اس کی ملکیت میں آگئی ۔
پھر بعد میں جرگہ والوں نے دونوں بھائیوں کو کہا کہ بیٹھک دوبارہ واپس مشترک کر دیں ۔ اس موقع پر دونوں بھائیوں نے نہ اس کی صراحتا ً تائید کی اور نہ مخالفت کی ، البتہ اس کے بعد دونوں بھائی کئی سالوں سے اس بیٹھک کو مشترکہ استعمال کر رہے ہیں ، اور دونوں پہلے کی طرح مشترک ہی سمجھ رہے ہیں ۔
اب کسی نے ان کو یہ کہا ہے کہ چونکہ چھوٹے بھائی نے قسم کھائی تھی کہ وہ اس بیٹھک کو مشترک نہیں رہنے دے گا اور ا گر مشترک رہنے دیا تو اس کی بیوی پر طلاق ہوگی ، اس لیے دوبارہ مشترکہ استعمال کرنے کی وجہ سے وہ اپنی قسم کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے اور اس کی وجہ سے گناہ گار ہو ا ہے
لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس صورت حال میں شرعاً کیا حکم ہے ؟ اب تک اس بیٹھک کے مشترکہ استعمال کی وجہ سے قسم اور طلاق کے حوالے سے کیا حکم ہوگا ؟نیز آئندہ کے لیے اس بیٹھک کو مشترکہ ہی رکھا جا سکتا ہے یا شرعا ً اس کی تقسیم ضروری ہے ؟
تنقیح : جب جرگے والوں نے دوبارہ بھائیوں کو مشترک رہنے کا کہا ،کیا اس وقت بیع ختم کر دی تھی یا نہیں؟
جواب تنقیح : عقد بیع ہو چکا تھا ،ثمن ابھی سپر د نہیں کیا تھا کہ جرگہ والوں نے دوبارہ دونوں بھائیوں کو مشترک رہنے کا کہا ۔

جواب

صورت مسئولہ میں شرط کے پائے جانے کی وجہ سے ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی ہے ۔ اس کے لیے حکم یہ ہے کہ عدت کے دوران خاوند دوبارہ رجوع کر سکتا ہے ۔ تا ہم واضح رہے کہ یہ حکم ا س صورت میں ہے جب ان الفاظ(وہ میری ماں بہن ہوگی ) سے طلاق کی نیت نہ ہو، لیکن اگر ان الفاظ(وہ میری ماں بہن ہوگی ) سے طلاق کی نیت کی تو پھر اس کی بیوی پر طلاق بائن واقع ہو کر نکاح ختم ہو گیا ہے۔ نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر کے اکٹھے رہ سکتے ہیں۔نیز قسم میں حانث ہونے کی وجہ سے اس پر کفارہ ( دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ،یا پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت دس مسکینوں کو ) دینا لازم ہے بشرطیکہ وہ استطاعت رکھتا ہو ۔اگر استطاعت نہیں رکھتا تو پھر تین دن مسلسل روزے رکھے ۔ بیٹھک کے حوالے سے حکم یہ ہے کہ آپس کی رضامندی سے کوئی ایک خرید لے یا مشترک رہنے دیں۔
المحيط البرهاني (3/ 497)
إذا طلق امرأته تطليقة، ثم قال بعد ذلك: زن برمن حرام رست، يسأل الزوج: عنيت بقولك: زن فرض حرام است الحرمة بتلك التطليقة أو هذا الكلام، إن قال: عنيت بتلك التطليقة، فقد جعل الطلاق الرجعي بائنا، فلا تقع تطليقة أخرى. وإن قال هذا الكلام مثلا، فهو طلاق آخر ثاني
فتح القدير  (4/ 158 ،159)
(وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض)…. (والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي) وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة قال (أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة) وهذا عندنا
البحر الرائق (4/ 107)
قال: أنت أمي لا يكون مظاهرا لكنه مكروه لقربه من التشبيه وقياسا على قوله يا أخية المنهي عنه في حديث أبي داود المصرح بالكراهة ولولا التصريح بها لأمكن القول بالظهار فعلم أنه لا بد في كونه ظهارا من التصريح بأداة التشبيه شرعا ومثله قوله يا بنتي يا أختي ونحوه
الدر المختار (3/ 725)
(وكفارته) هذه إضافة للشرط لأن السبب عندنا الحنث (تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين) ..(أو كسوتهم بما) يصلح للأوساط وينتفع به فوق ثلاثة أشهر، و (يستر عامة البدن) فلم يجز السراويل إلا باعتبار قيمة الإطعام.  (وإن عجز عنها)…(صام ثلاثة أيام.واللہ اعلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء الاحسان

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ، لاہور

شرعی مسائل میں رہنمائی حاصل کیجیے

اپنے دینی و شرعی مسائل کے حل کے لیے
دارالافتاء کے مستند مفتیانِ کرام سے
رہنمائی حاصل کیجیے۔ اپنا سوال واٹس ایپ
کے ذریعے ارسال فرمائیں۔


واٹس ایپ پر اپنا شرعی سوال ارسال کریں

0309-7759396
قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی