بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شرکت فی البیع میں شرکت ختم کئے بغیر منافع روکنا جائز نہیں ہے

سوال

میں نےجنوری 2018ء کو 8لاکھ روپے اپنے دوست کے ساتھ کاروبار میں پچاس(50)فیصد شراکت پر اس کو دیے۔اکتوبر 2018ء تک منافع ملتا رہا بغیر کوئی حساب کئے۔جب میں نے اس کو حساب کرنے کے لئے کہا تو اس نے 5 لاکھ روپے 15 نومبر کو واپس کئے،اور کہا کہ تین لاکھ روپے مارچ تک واپس کردےگا،پانچ(5) لاکھ روپے دیتے وقت دونوں فریقوں میں یہ بات واضح نہیں کی کہ بقیہ تین(3)لاکھ روپے میں شراکت باقی ہے یا نہیں اور اس کے عوض منافع ملتا رہے گا یا نہیں، جب تک تین لاکھ روپے واپس نہیں ہوجاتے۔ دو(2)لاکھ روپے8 جون 2019ء کواور پچاس(50)ہزار 29 جون کودیے،اور باقی کے پچاس(50) ہزار 12 اگست کو دےگا۔
نمبر(1)۔کیا ہم 15 نومبر 2018ء سے لیکر 31 مئی 2019ء تک تین(3)لاکھ روپے سے ہونے والے منافع کا حساب کرسکتے ہیں؟اور اگر منافع بنتا ہو تو وہ میں لے سکتا ہوں؟
نمبر(2)۔جنوری 2018ء سے لیکر اکتوبر 2018ء تک کا بھی حساب کرسکتا ہوں؟
تنقیح:اس بات کی وضاحت فرمادیں کہ معاملے کی ابتداء میں دوسرے فریق کے سرمایہ کی مقدار کاتعین بھی کیا گیا تھا یا نہیں؟اس حوالے سے جو بھی صورت ِ حال پیش آئی اس کی مکمل تفصیل لکھیں۔فقط
جوابِ تنقیح:فریقِ ثانی کے ساڑھے تین لاکھ روپے تھے۔

جواب

مذکورہ صورت میں رقم واپس کرتے ہوئے اگرچہ صراحتاً معاملہ ختم نہیں ہوا،لیکن اگر قرائن سے دونوں کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ معاملہ ختم ہورہا ہے تو اس صورت میں آپ کے لئے اس کے بعد والا نفع لینا جائز نہیں اور اگر ایسی صورتِ حال نہیں تھی بلکہ قرائن سے یہ بات واضح ہورہی تھی کہ معاملہ بدستور فی الحال باقی ہے تو بقیہ عرصہ کا نفع آپ لے سکتے ہیں
بدائع الصنائع،علاء الدين  الكاساني(م: 587هـ) (6/  63) دار الكتب العلمية
وإن شرطا العمل على أحدهما فإن شرطاه على الذي رأس ماله أقل؛ جاز، ويستحق قدر ربح ماله بماله والفضل بعمله، وإن شرطاه على صاحب الأكثر لم يجز؛ لأن زيادة الربح في حق صاحب الأقل لا يقابلها مال ولا عمل ولا ضمان
الفتاوى الهندية،لجنة علماء برئاسة نظام الدين البلخي (2/ 319)دارالفكر
والمساواة في رأس المال ليست بشرط ويجوز التفاضل في الربح مع تساويهما في رأس المال، كذا في محيط السرخسي
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام،خواجه أمين أفندي(م:1353هـ)(3/ 370) دار الجيل
المادة (1353) – (تنفسخ الشركة بفسخ أحد الشريكين، ولكن يشترط أن يعلم الآخر بفسخه، ولا تنفسخ الشركة ما لم يعلم الآخر بفسخ الشريك) تنفسخ الشركة بفسخ أحد الشريكين أو بإنكاره الشركة أو بقول أحدهما للآخر لا أعمل معك فإنه بمنزلة فاسختك وتنفسخ ولو كان مال الشركة موجودا في حالة العروض…. ولا يشترط في حصة الفسخ رضاء الآخر (البحر)
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء الاحسان

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ، لاہور

شرعی مسائل میں رہنمائی حاصل کیجیے

اپنے دینی و شرعی مسائل کے حل کے لیے
دارالافتاء کے مستند مفتیانِ کرام سے
رہنمائی حاصل کیجیے۔ اپنا سوال واٹس ایپ
کے ذریعے ارسال فرمائیں۔


واٹس ایپ پر اپنا شرعی سوال ارسال کریں

0309-7759396
قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی