فریق اول نے فریق دوم کو ایک عدد مکان معہ دکان وغیرہ جو کہ ٹوٹل رقبہ 4 مرلہ ہے جس میں سے فریق اول نے اپنے 2 مرلے فریق دوم کو پینسٹھ لاکھ روپےمیں فروخت کر دئیے ۔ جس میں سے فریق دوم نے موقع پر آن لائن پانچ لاکھ ٹرانسفر کر دیئے۔ اس کے بعد پندرہ لاکھ رو پے فریق دوم 26-02-05 کو ادا کرے گا ۔ اور بقیہ رقم پینتالیس لاکھ روپے فریق دوم 26-06-30 کو فریق اول کو ادا کرے گا ۔ ایک شرط یہ ہے کہ فریق دوم آدھی رقم ادا کرنے کے بعدجگہ کا مکمل کرایہ وصول کرنے کا مجاز ہوگا۔ اور اگر فریق دوم نے مکمل رقم 30-6 -26 تک ادا نہ کی تو فریق اول نصف رقم وصول کرنے کے باوجود بھی جگہ کا آدھا کرایہ پھر سے وصول کرنے کا مجاز ہوگا ۔ اور اگر مزید تین ماہ میں بقیہ رقم ادا نہ کی تو پھر دو لاکھ روپے جرمانہ بھی ساتھ ادا کرے گا ۔ اور اگر مزید تین ماہ میں رقم ادانہ کی تو پھر فریق اول دی ہوئی رقم وپس کرکے اپنی جگہ کاجو کہ نصف ہے واپس مالک ہو جائیےگا ، لیکن وہ وصول کردہ رقم ایک ماہ میں واپس کر ےگا ۔
الهداية (3/ 48)
وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده كشرط أن لا يبيع المشتري العبد المبيع
البحر الرائق (6/ 136)
وحقيقة الشروط الفاسدة هي زيادة ما لا يقتضيه العقد ولا يلائمه فيكون فيه فضل خال عن العوض، وهو الربا بعينه
مجمع الأنهر (2/ 62)
(ولو) كان البيع (بشرط لا يقتضيه العقد وفي نفع لأحد المتعاقدين) أي البائع والمشتري (أو لمبيع يستحق) النفع بأن يكون آدميا (فهو) أي هذا البيع (فاسد) لما فيه من زيادة عرية عن العوض فيكون ربا وكل عقد شرط فيه الربا يكون فاسدا
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 516)
ويجب على كل واحد من البائع والمشتري فسخه قبل القبض أو بعده ما دام في يد المشتري إعداما للفساد لأنه معصية فيجب رفعها وإذا أصر أحدهما على إمساكه وعلم به القاضي فله فسخه جبرا عليهما حقا للشرع.واللہ اعلم