بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حائضہ صبح صادق کےبعد پاک ہوئی تو اس دن کے روزہ کا حکم

سوال

میری بیوی صبح صادق كے بعد حیض سے پاك ہوگی تو کیا وہ صبح صادق کے وقت روزہ كی نیت سے سحری کھالے تواس کا اس دن کا روزہ ہوجائےگا یانہیں ؟ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صبح صادق کے وقت چونکہ آپ کی بیوی حائضہ تھی لہٰذا اس دن کا روزہ معتبر نہ ہوگا قضا لازم ہوگی نیز پورے دن اس کے لیے کھا نا پینا درست نہیں ،شام تک روزہ داروں کی طرح رہنا ضروری ہے۔
صورت مسئولہ میں روزہ کی نیت سے سحری کھانا تو بے فائدہ ہے البتہ چونکہ حیض سے پاک ہونے کی بنا پر دن بھر کھانا پینا درست نہیں ہوگا اس لیے اگر سحری میں کھا نا کھا لے تو مناسب ہے ۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/627) بیروت
أما وجوب الإمساك تشبها بالصائمين فكل من كان له عذر في صوم رمضان في أول النهار مانع من الوجوب أو مبيح للفطر ثم زال عذره وصار بحال لو كان عليه في أول النهار لوجب عليه الصوم ولا يباح له الفطر كالصبي إذا بلغ في بعض النهار وأسلم الكافر وأفاق المجنون وطهرت الحائض وقدم المسافر مع قيام الأهلية يجب عليه إمساك بقية اليوم۔
الدر المختار (2/440) رشیدیة
(والأخيران يمسكان بقية يومهما وجوبا على الأصح) لأن الفطر قبيح وترك القبيح شرعا واجب (كمسافر أقام وحائض ونفساء طهرتا ومجنون أفاق ومريض صح)۔
 (رد المحتار) (1/ 253) ایچ۔ایم،سعید
الحائض إذا طهرت في رمضان، فإنها تمسك تشبها بالصائم لحرمة الشهر ثم تقضي۔
الفتاوى الهندية (1/46) بیروت
(ومنها) أن يحرم عليهما الصوم فتقضيانه هكذا في الكفاية۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس