بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سر کے چاروں اطراف میں سے کسی ایک طرف پر مسح کرنا اور مقدار ناصیہ کی تشریح

سوال

وضومیں بمقدارناصیہ مسح فرض ہے،ناصیہ کی تشریح کیاہے؟نیزسرکےچاروں اطراف میں سے کسی ایک طرف پر مسح کرنا کیسا ہے؟

جواب

سر پر مسح

مقدارِناصیہ(پیشانی) کی وضاحت فقہائے کرام نے سرکے چوتھائی حصے سےکی ہے،یعنی ایک چوتھائی سرکےبقدرمسح کرنافرض ہے؛لہٰذاسركےچاروں اطراف ميں سےكسی ايك طرف پرچوتھائی سرکے بقدرپرمسح كرنےسے مسح كی فرضيت اداہوجائےگی۔
الفتاوى الهندية (1/ 5)دارالکتب
 والمختار في مقدار الناصية ربع الرأس. كذا في الاختيار شرح المختار
المحيط البرهاني (1/ 36)
وأما فرض مسح الرأس: مقدر بالناصية وذلك قدر ربع الرأس
فتح القدير للكمال ابن الهمام (1/ 17)رشیدیۃ
(والمفروض في مسح الرأس مقدار الناصية وهو ربع الرأس)وهو كما ترى يشير الى انه يجوز من اي جانب كان
کذافی فتاوی عثمانیہ(۱/۳۰۶،۳۳۲)
کتاب المسائل(۱/۱۵۴)
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس