بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کی صورت میں گوشت کے سات حصے بنانے کا حکم

سوال

ایک آدمی اکیلا بڑےجانور کی قربانی کرتا ہے، اس میں چار حصے واجب قربانی کے اور دو حصے فوت شدہ والدین کے اور ایک حصہ آپﷺکا رکھا۔اب کیا اس کے لئے گوشت کے سات حصے بنانا ضروری ہیں اور نفلی قربانی کے گوشت کا کیا حکم ہے اور گوشت کی تقسیم کا کیا طریقہ کار ہوگا؟

جواب

نفلی قربانی

مذکورہ شخص نے اگر ایک ہی بڑے جانور میں اپنے اہل خانہ کی طرف سے واجب قربانی اور اس کے ساتھ اپنے والدین مرحومین اورآپﷺ کی طرف سے نفلی قربانی کی ہواور ان سب کا کھانا مشترک ہو ،تو ایسی صورت میں گوشت کے الگ الگ حصے کرنا ضروری نہیں ہے۔
واجب اور نفلی قربانی کے گوشت کو خود بھی استعمال کر سکتا ہے اور غرباء میں بھی تقسیم کر سکتا ہے۔
رد المحتار(6/ 317)سعيد
حتى لو اشترى لنفسه ولزوجته وأولاده الكبار بدنة ولم يقسموها تجزيهم أو لا، والظاهر أنها لا تشترط لأن المقصود منها الإراقة وقد حصلت
الفتاوى الهندية (5/370)رشيدية
ويستحب أن يأكل من أضحيته ويطعم منها غيره، والأفضل أن يتصدق بالثلث ويتخذ الثلث ضيافة لأقاربه وأصدقائه، ويدخر الثلث، ويطعم الغني والفقير جميعا، كذا في البدائع. ويهب منها ما شاء للغني والفقير والمسلم والذمي، كذا في الغياثية. ولو تصدق بالكل جاز، ولو حبس الكل لنفسه جاز،  وله أن يدخر الكل لنفسه فوق ثلاثة أيام  إلا أن إطعامها والتصدق بها أفضل إلا أن يكون الرجل ذا عيال وغير موسع الحال فإن الأفضل له حينئذ أن يدعه لعياله ويوسع عليهم به، كذا في البدائع
الفقہ الاسلامی (4/2729)رشیدیۃ
والمستحب عند الحنفیۃ والحنابلۃ أن تکون نسبۃ التوزیع أثلاثا فیأکل ثلث أضحیتہ، ویھدی ثلثہ لأقاربہ وأصدقائہ ولو أغنیاءویتصدق بثلثھا علٰی المساکین
 احسن الفتاویٰ(7 /500)اشاعت الاسلام
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس