ائیر کنڈیشن کے اِن ڈور یونٹ میں چھپکلی کی بیٹ اور پیشاب تھا اور کچھ جگہ پھنسا ہوا تھا ۔اِ ن ڈور یونٹ سے کبھی کبھی پانی آتا ہے جو اِ ن ڈور میں پڑ ی بیٹ اور پیشاب سے گزر کر جسم ،کپڑوں یا فرنیچر پر پڑتا ہے اور اس کے ڈرین والا پانی ایک بالٹی میں جمع ہوتا ہے ،جس کے بھرنے کے بعد پانی جسم اور کپڑوں کو لگتا ہے ۔اس پانی کا کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اس بات کا یقین یا ظنِ غالب نہیں ہے کہ جو پانی ائیر کنڈیشن سے باہر آتا ہے اس میں نجاست کا اثر بھی آیا ہو ۔لہٰذا صر ف شک کی بنیاد پر اس پانی کو ناپاک نہیں کہا جا سکتا ،نیز جب تک مکمل یقین یا ظنِ غالب نہ ہو اس قسم کے وہم سے خود کو بچانا ضروری ہے۔لیکن اگر مذکورہ صورت میں پانی کا بیٹ کے ساتھ لگ کرآنا اور اس کے اثرات کا پانی میں مل جانا یقینی ہو تو یہ پانی ناپاک ہے،اور کپڑے یا جسم پر لگنے کی صورت میں ان کو پاک کرنا ضروری ہے۔
الدر المختار (1/ 318)
(وبول غير مأكول ولو من صغير لم يطعم)… أفاد بهما نجاسة خرء كل حيوان غير الطيور
رد المحتار(1/ 320)
(قوله: أفاد بهما نجاسة خرء كل حيوان) أراد بالنجاسة المغلظة؛ لأن الكلام فيها ولانصراف الإطلاق إليها كما يأتي
البحر الرائق (1/ 242)
خرء كل حيوان غير الطيور فالروث للحمار والفرس والخثي للبقر والبعر للإبل والغائط للآدميولا خلاف في تغليظ غائط الآدمي ونجو الكلب ورجيع السباع واختلفوا فيما عداه فعنده غليظة لقوله – عليه السلام – «في الروثة أنها ركس» أي نجس
بدائع الصنائع (1/ 73)
فلا نحكم بنجاسته بالشك على الأصل المعهود إن اليقين لا يزول بالشك