بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ناپاک قلیل پانی میں دس بیس ڈول پاک پانی ڈالے جانے کے بعد اس کے پاک ہونےکا حکم

سوال

دہ دردہ اور جاری پانی کے علاوہ پانی جو پاک ہے اس میں تھوڑی سی نجاست گر جائے تو وہ ناپاک ہو جاتا ہے لیکن تھوڑے سے ناپاک پانی میں دس بیس ڈول پاک بھی پانی ملاد یں گے تو وہ پاک کیوں نہیں ہو سکتا ؟

جواب

واضح رہے کہ ناپاک پانی میں پاک پانی ڈالنےکے بعد اس کی کسی جانب سے جب تک پانی بہنےنہیں لگتا، وہ پانی ماءِ راکد کے حکم میں ہو کر ناپاک ہی رہے گا اورجب اس کی کسی جانب سے پانی بہنے لگے تو وہ ماء ِجاری کے حکم میں ہو کر پاک ہو جائے گا ۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں ناپاک قلیل پانی کو پاک کرنے کا درست طریقہ یہ ہے کہ نجاست والےپانی میں ایک جانب پانی ڈال کر جاری کر دیا جائے ، جب وہ بھر کر دوسری جانب سے نکلنا اور بہنا شروع ہو جائے تووہ پاک ہو جائے گا۔
الهداية(1/36)حبيبية رشيدية
والماء الجاري إذا ‌وقعت ‌فيه ‌نجاسة جاز الوضوء منه إذا لم ير لها أثر لأنها لا تستقر مع جريان الماء ” والأثر: هو الرائحة أو الطعم أو اللون
رد المحتار(1/ 196) رشيدية
 أن دلوا تنجس فأفرغ فيه رجل ماء حتى امتلأ وسال من جوانبه هل يطهر بمجرد ذلك أم لا؟ والذي يظهر لي الطهارة
الفتاوٰی التاتارخانية (1/307) فاروقیة كوئتة
 حوض صغير تنجس ماءه فدخل الماء الطاهر فيه من جانب و سأل ماء الحوض من جانب آخر كان الشيخ الامام الفقيه ابو جعفر رحمه الله يقول : لما سال ماء الحوض من الجانب الآخر يحكم بطهارة الحوض (الى قوله) و من المشائخ من شرط خروج مثل ما كان في الحوض من الماء النجس مرة واحدة و في الظهيرية و الصحيح انه يطهر و ان لم يخرج مثل ما فيه و فى النوازل و به ناخذ
(كذا في المحيط البرهاني (1/251) دار إحياء التراث العربي: بيروت)
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس