بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حلال و حرام جانوروں (پرندوں، چوپاؤں اور آبی جانوروں میں ) کی تفریق وبیٹ کا حکم

سوال

مجھےمعلومات جو درکار ہیں وہ حلال پرندوں کی پہچان سے متعلق ہیں کہ
نمبر۱۔ کون سے پرندے حلال ہوتے ہیں اور کون سے پرندے حرام؟
نمبر۲۔ حرام پرندے کی بیٹ کپڑوں پر لگنے پر کیا احکامات ہیں کہ صرف اتنا حصہ جس پر بیٹ لگی ہے صاف ، دھو لینا کافی ہے؟
نمبر۳۔ طوطا حلا ل پرندہ ہے یا حرام؟

جواب

نمبر ۱۔ایسے پرندے جو اپنے پنجوں سے شکار کرتے ہوں وہ حرام ہیں مثلا چیل،عقاب وغیرہ ۔چونکہ طوطا اس طرح سے شکار نہیں کرتا لہذا وہ شرعًا حلال ہے۔
فقہ حنفی میں بحری حیوانات میں سے صرف مچھلی حلال ہے ۔بری حیوانات میں سے ایسے جانور جو چیر پھاڑ کرتے ہوں یعنی داڑھ اور کچلی والے ہوں مثلا بلی،کتا ،شیر وغیرہ یا جن کے بارے میں نص وارد ہو جیسے گدھا وغیرہ وہ حرام ہیں بقیہ حلال ہے۔
حرام پرندوں کی بیٹ نجاست خفیفہ ہے ،جس کا حکم یہ ہے کہ اس کے کپڑوں پر لگنے کے باوجود نماز درست ہو جاتی ہے تاہم بہتر یہ ہے کہ جتنے حصے پر بیٹ لگی ہو اس کو دھو لینا چاہیے۔
الدر المختار(9ْ507)رشيدية
(ولا يحل) (ذو ناب يصيد بنابه) فخرج نحو البعير (أو مخلب يصيد بمخلبه) أي ظفره فخرج نحو الحمامة (من سبع) بيان لذي ناب. والسبع: كل مختطف منتهب جارح قاتل عادة (أو طير) بيان لذي مخلب…..(ولا) يحل (حيوان مائي إلا السمك) الذي مات بآفة ولو متولدا في ماء نجس۔
فتاوی قاضی خان(1/26)رشیدیۃ
(ذرق) سباع  الطیر کالبازی والحداءۃ لا یفسد الثوب ۔
فتاویٰ ہندیہ (1/51) بیروت
وخرء طیر لا یؤکل مخفف ہکذا فی الکنز ۔
الفقه على المذاهب الأربعة(412)دار ابن حزم
 ويحل من الطير أكل العصافير بأنواعها والسمان والقنبر والزرزور والقطا والقطا والكروان والبلبل والببغاء  والنعامة والطاووس والكركي والبط والأوز وغير ذلك من الطيور المعروفة۔
المبسوط للسرخسي (1/ 57) دار المعرفة ،  بيروت
قال (وخرء ما لا يؤكل لحمه من الطيور ذكر في الجامع الصغير أنه تجوز الصلاة فيه، وإن كان أكثر من قدر الدرهم في قول أبي حنيفة وأبي يوسف – رحمهما الله تعالى ، وعند محمد – رحمه الله تعالى – لا يجوز بمنزلة خرء ما لا يؤكل لحمه من السباع) ، والمعنى أنه مستحيل من غذائه إلى فساد واختلف مشايخنا – رحمهم الله – على قول أبي حنيفة وأبي يوسف – رحمهما الله تعالى – فمنهم من قال هو نجس عندهما لكن التقدير فيه بالكثير الفاحش لمعنى البلوى، والأصح أنه طاهر عندهما فإن الخرء لا فرق فيه بين مأكول اللحم، وغير مأكول اللحم في النجاسة، ثم خرء ما يؤكل لحمه من الطيور طاهر فكذلك ما لا يؤكل لحمه۔
(احسن الفتاوی:2/84)ط: مکتبہ اشاعت اسلام ، انڈیا

فضاء میں اڑنے والے حلال پرندوں کی بیٹ پاک ہے اور حرام پرندوں کی نجاست خفیفہ ہے۔۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس