اگر کوئی شخص اپنے ہی بالوں کی ٹرانسپلانٹیشن کرواتا ہے یا مصنوعی بالوں کی وگ لگواتا ہے تو دونوں صورتیں شرعاً جائز ہیں کیونکہ یہ ازالہ عیب ہے البتہ اس بات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ وہ بال جو استعمال کرنے ہیں وہ کسی اور انسان یا خنزیر کے بال نہ ہوں اگر وہ بال کسی انسان یا خنزیر کے ہیں تو ان کا استعمال کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔ اور وضو میں بالوں پر مسح کے حکم کی یہ تفصیل ہے اگر وہ بال مستقل طور پر سر کا جز بن گئے ہیں تو ان پر ہی مسح کیا جائے گا اور اگروہ وگ ہے جو پن کے ذریعے لگائی گئی ہے تو اس کو اتار کر مسح کرنا ہوگا۔ اور ایسے ہی اگر دانت کی بھروائی کی گئی ہے یا خول چڑھوایا تو اس سے وضو میں کوئی فرق نہیں پڑے گا البتہ غسل کے وقت اگر وہ دانت کا خول ایسا ہے جو آسانی سے اتارا جاسکتا ہے تو اس کو اتارنا ضروری ہے اور اگر اس خول کو اتارنے میں شدید مشقت یا پریشانی ہوتی ہے تو پھر ایسے ہی غسل کرلیا جائے گا اسکو اتارنا ضروری نہیں ہے۔
صحیح البخاری(۲/۸۷۸) محمودیہ
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ : لعن اللہ الواصلۃ والمستوصلۃ والواشمۃ والمستوشمۃ۔
رد المحتار (۶/۳۸۲) سعید
ووصل الشعر شعر الادمی حرام سواء کان شعرھا او شعر غیرھا۔
رد المحتار (۶/۳۸۲) سعید
قولہ ( لعن اللہ الواصلۃ) الخ۔۔ الواصلۃ: التی تصل الشعر بشعر الغیر والتی یوصل شعرھا بشعر آخر۔
رد المحتار (۶/۳۸۲) سعید
و انما الرخصۃ فی غیر شعر بنی آدم تتخذہ المراۃ لتنزیہ فی قرونھا۔
فی الھندیۃ (۱/۱۶) بیروت
ولوکان سنہ مجوفافبقی فیہ اوبین اسنانہ طعام اودرن رطب فی انفہ ثم غسلہ علی الاصح۔