بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ہاتھ کٹےہوئےشخص کےلئےتیمم کا طریقہ

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس شخص کے بارے میں جس کے ہاتھ کٹے ہوئےہوں اور وہ تیمم کرنا چاہے تو وہ کیسے تیمم کرےگا؟ کیا صحیح سلامت  آدمی کی طرح  اس پر بھی پورے کہ پورے ہاتھوں کا مسح کرنالازم ؟

جواب

جس شخص کے ہاتھ کہنیوں سے کٹے ہوئے ہوں تو وہ تیمم کرتے وقت صرف کٹی ہوئی جگہ  پر ہاتھ پھیرے گا اور اگر ہاتھ کلائیوں سے کٹے ہوئے ہوں تو پھر چہرے کے ساتھ  کہنیوں تک مسح کرنا لازم ہے اور اسی طرح جس کے ہاتھ کہنیوں سے نیچے کٹے ہوئے ہوں اس پر بھی کہنیوں تک سارے کہ سارےہاتھوں کا مسح کرنا لازم ہے، البتہ جس کے ہاتھ کہنیوں سے اوپر اوپر کٹے ہوئے ہوں تو اس پر صرف چہرے کا مسح ہے  کہنیوں کے اوپر کٹی ہوئی جگہ کا نہیں۔
:الأصل،محمد بن الحسن،الشيباني(م: 189 هـ)(1/102/)دارابن حزم بيروت
قلت أرأيت رجلا مقطوع اليدين من المرفقين فأراد أن يتيمم هل يمسح على وجهه ويمسح على موضع القطع قال نعم قلت فإن مسح وجهه وترك موضع القطع قال لا يجزيه قلت فإن صلى هكذا أياما قال عليه أن يمسح موضع القطع ويستقبل الصلاة قلت فإن كان القطع في اليدين من المنكب قال عليه أن يمسح وجهه وليس عليه أن يمسح موضع القطع قلت وكذلك لو كان القطع من فوق المرفق دون المنكب قال نعم قلت فإن كان القطع من المفصل قال عليه أن يمسح وجهه وذراعيه قلت وكذلك لو كان دون المرفق قال نعم قلت فإن لم يفعل وصلى هكذا أياما قال عليه أن يمسح ذلك ويعيد الصلوات كلها۔
:المبسوط لمحمد بن أحمد للسرخسي(م: 483هـ)(1/ 121)دارالمعرفة
قال (وإذا تيمم وهو مقطوع اليدين من المرفقين فعليه مسح موضع القطع من المرفق عندنا) خلافا لزفررحمه الله تعالى ثم موضع القطع صار باديا في حقه فهو نظير الكف في حق من هو صحيح اليدين فعليه مسحه في التيمم وإن كان القطع من فوق لم يكن عليه مسحه؛ لأن موضع الطهارة من يده فائت فإن ما فوق المرفق ليس بموضع الطهارة۔
:الدرالمختار،علاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ)(1/236 تا 237 )سعيد
 (تيمم)۔۔۔۔ (مستوعبا وجهه) حتى لو ترك شعره أو وترة منخره لم يجز (ويديه) فينزع الخاتم والسوار أو يحرك به يفتى (مع مرفقيه) فيمسحه الأقطع۔
:رد المحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م: 1252هـ)(1/ 237 )سعيد
(قوله به يفتى) أي بلزوم الاستيعاب كما في شرح الوقاية، وهو الصحيح خانية وغيرها، وهو ظاهر الرواية زيلعي، ومقابله ما روي أن الأكثر كالكل (قوله فيمسحه) أي المرفق المفهوم من المرفقين ط (قوله الأقطع) أي من المرفق إن بقي شيء منه ولو رأس العضد؛ لأن المرفق مجموع رأسي العظمات رحمتي، فلو كان القطع فوق المرفقين لا يجب اتفاقا. فقط۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس