بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کتا یابلی کا کپڑوں کے ساتھ لگنا ،ان کے جسم سے اڑنے والی پانی کی چھینٹوں کا حکم

سوال

نمبر۱۔کیا کتے یا بلی کا کپڑوں کے ساتھ لگنے سے کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں؟
نمبر۲۔ کتے یا بلی کے جسم سے اڑنے والی پانی کی چھینٹیں اگر کپڑوں پر لگ جائیں تو کیا کپڑے ناپاک ہوجائیں گے؟ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

نمبر۱۔اگر کتے یا بلی کا جسم خشک ہو کوئی نجاست نہ لگی ہو اور کپڑوں کو لگ جائے تو ان کے لگنے سے کپڑئے نا پاک نہیں ہو نگے ۔
نمبر۲۔ کتے یا بلی کے بدن سے اڑنے والی پانی کی چھینٹیں لگ جانے سے کپڑے نا پاک نہیں ہوتے بشرطیکہ وہ پانی پاک ہو جس کی چھینٹیں کپڑوں پر لگی ہیں اور کتے کا لعاب یا پسینہ اس پانی کے ساتھ نہ ملا ہو۔
بذل المجحود (1/62)رشیدیۃ
عن كبشة بنت كعب بن مالك – وكانت تحت ابن أبي قتادة – أن أبا قتادة، دخل فسكبت له وضوءا، فجاءت هرة فشربت منه، فأصغى لها الإناء حتى شربت، قالت كبشة: فرآني [ص:20] أنظر إليه، فقال: أتعجبين يا ابنة أخي؟ فقلت: نعم، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إنها ليست بنجس، إنها من الطوافين عليكم والطوافات»۔
رد المحتار علی در المختار(1/426)رشیدیۃ
(قوله طاهر للضرورة) بيان ذلك أن القياس في الهرة نجاسة سؤرها؛ لأنه مختلط بلعابها المتولد من لحمها النجس، لكن سقط حكم النجاسة اتفاقا بعلة الطواف المنصوصة بقوله – صلى الله عليه وسلم – إنها ليست بنجسة، إنها من الطوافين عليكم والطوافات۔
رد المحتار(1/401)رشیدیۃ
واعلم أنه (ليس الكلب بنجس العين) عند الإمام وعليه الفتوى وإن رجح بعضهم النجاسة كما بسطه ابن الشحنة، فيباع ويؤجر ويضمن، ويتخذ جلده مصلى ودلوا، ولو أخرج حيا ولم يصب فمه الماء لا يفسد ماء البئر ولا الثوب بانتفاضه۔۔۔۔۔ (قوله ليس الكلب بنجس العين) بل نجاسته بنجاسة لحمه ودمه، ولا يظهر حكمها وهو حي ما دامت في معدنها كنجاسة باطن المصلي فهو كغيره من الحيوانات (قوله وعليه الفتوى) وهو الصحيح والأقرب إلى الصواب بدائع وهو ظاهر المتون بحر. ومقتضى عموم الأدلة۔
الدر المختار(1/228)سعید
قوله وحكم عرق كسؤر) أي العرق من كل حيوان حكمه كسؤره لتولد كل منهما من اللحم۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس