بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

پیشاب کے قطرے خشک ہونے کے بعد ناپاک جگہ معلوم نہ ہو تو پاکی وناپاکی کا کیا حکم ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ایک شخص قطروں کا مریض ہے جس کو قطرے آتے رہتے ہیں ، جب وہ بازار وغیرہ جاتا اور وہاں قطرے نکلتے ہیں تو فوراً کپڑے دھونے کا موقع نہیں ملتا اور بعد میں معلوم نہیں ہوتا کہ قطرے کس جگہ لگے ہیں، تو ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے کہ وہ کس طریقہ پر کپڑے دھوئے اور نماز پڑھے اور پڑھائے؟

جواب

مذکورہ صورت میں مریض کو چاہیے کہ نماز پڑھنے سے پہلے جہاں پیشاب لگنے کا غالب گمان ہو اس تمام جگہ کو دھوئے اور پھر نماز پڑھے ،نیز اگر ایسا شخص واقعتاً شرعی معذور ہے اور مسلسل قطرے آتے ہیں تو اس کے لیے دوسرے صحیح افراد کی امامت کرنا درست نہیں،البتہ اگر مسلسل قطرے نہیں آتے بلکہ پیشاب کرنے کے بعد کچھ دیر تک آکر رک جاتے ہیں تو وہ اپنے کپڑے اور جسم پاک کر کے نماز پڑھا سکتا ہے ۔
بدائع الصنائع  (1/ 81) دار الكتب العلمية
ولو أن ثوبا أصابته النجاسة – وهي كثيرة – فجفت، وذهب أثرها، وخفي مكانها؛ غسل جميع الثوب
الفتاوى الهندية (1/ 43)دارالفکر
إذا تنجس طرف من أطراف الثوب ونسيه فغسل طرفا من أطراف الثوب من غير تحر حكم بطهارة الثوب هو المختار فلو صلى مع هذا الثوب صلوات ثم ظهر أن النجاسة في الطرف الآخر يجب عليه إعادة الصلوات التي صلى مع هذا الثوب كذا في الخلاصة والاحتياط أن يغسل جميع الثوب
درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/  88) دار إحياء الكتب العربية
ا يجوز اقتداء المفترض به (ولا طاهر بمعذور ولا قارئ بأمي ولابس بعار وغير مومئ بمومئ ومفترض بمتنفل) ؛ لأن في كل منها بناء القوي على الضعيف وذا لا يجوز
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس