بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

وضو میں چہرہ دھونے کی حدود اور قلموں کا دھونا

سوال

وضو میں چہر ہ دھونے کی کیا حد ہے اور کیا قلمیں اس میں داخل ہیں یا نہیں ۔ براہِ کرم اس سوال کا جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب

وضو میں چہر ہ دھونے کی حدود طولا ً (لمبائی ) میں پیشانی کے بالوں کے اگنے کی جگہ سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک ہے او رعرضاً (چوڑائی( میں ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک ہے۔
اگر قلموں سے مراد وہ بال ہیں جو رخسار اور کان کی لو کے درمیان ہیں تو ان کو دھونا بھی ضروری ہے بشرطیکہ وہ بال گھنے نہ ہوں۔اور اگر گھنے ہوں تو اوپر سے دھولینا کافی ہے۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 93) بیروت
مطلب غسل الوجه (وأما) أركان الوضوء فأربعة: (أحدها) : غسل الوجه مرة واحدة، لقوله تعالى {فاغسلوا وجوهكم} [المائدة: 6] ، والأمر المطلق لا يقتضي التكرار، ولم يذكر في ظاهر الرواية حد الوجه، وذكر في غير رواية الأصول أنه من قصاص الشعر إلى أسفل الذقن، وإلى شحمتي الأذنين، وهذا تحديد صحيح۔
الدر المختار (1/ 216) رشیدیة
(غسل الوجه) (مرة) لأن الأمر لا يقتضي التكرار (وهو) مشتق من المواجهة، ۔۔۔ (من مبدإ سطح جبهته)۔۔۔(إلى أسفل ذقنه) أي منبت أسنانه السفلى (طولا) كان عليه شعر أو لا (وما بين شحمتي الأذنين عرضا) ۔۔۔(وما بين العذار والأذن) لدخوله في الحد وبه يفتى۔۔
الفتاوى الهندية (1/5) بیروت
 ولم يذكر حد الوجه في ظاهر الرواية. كذا في البدائع في المغني الوجه من منابت شعر الرأس إلى ما انحدر من اللحيين والذقن إلى أصول الأذنين. كذا في العيني شرح الهداية۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس