درھم کی مقدار بتادیں آیا ناپاکی کی مقدار کتنی ہے؟ ہاتھ کی ہتھیلی کے بقدر بھی کہتے ہیں اور درھم کے بقدر بھی کہتے ہیں اور ایک روپیہ کے برابر بھی کہتے ہیں۔ میں نے اپنے علاقے کے علمائے کرام سے بھی پوچھا، لیکن تسلی بخش جواب نہیں ملا، اب میں پریشان ہوں کہ کتنی مقدار میں ناپاکی معاف ہے؟ برائے مہربانی آپ کوئی ایسا سہل اندازہ بتادیں یا پھر کسی ایسی چیز کا اندازہ بتادیں کہ وہ چیز پاکستان کے ہر علاقے سے باآسانی مل جاتی ہو، میری مشکل بھی دور ہوجائے اور سمجھنے میں بھی مجھے آسانی ہوجائے۔
اگر نجاست جسم والی ہو جیسے گوبر وغیرہ تو 86ء4(چار اعشاریہ چھیاسی) گرام وزن معاف ہے اور اگر نجاست پتلی ہو مثلاً پیشاب وغیرہ تو پھیلاؤ میں ہتھیلی کے گہراؤ کے برابر معاف ہے ۔فقہاء کرام نے ہتھیلی کے گہراؤ کی وسعت معلوم کرنے کا یہ طریقہ لکھا ہے کہ چلو میں پانی بھر کر ہتھیلی کو پھیلا دیا جائےجتنی جگہ میں پانی ٹھہرا رہےاتنی وسعت مراد ہے۔سینٹی میٹر کے اعتبار سے ہتھیلی کی پیمائش 94ء5(پانچ اعشاریہ چورانوے) سینٹی میٹر کے برابر معاف ہے ۔ بعض اکابرین نے اس کی مقدار دیہاتی ایک روپیہ کے برابر تحریر فرمائی ہے۔ جو آج کل ناپید ہوچکاہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہتھیلی کی گہرائی کا اندازہ کرلینا بہتر ہے۔
الدر المختار (1/ 571) رشیدیة
(وعفا) الشارع (عن قدر درهم) وإن كره تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل. . . (وهو مثقال) عشرون قيراطا (في) نجس (كثيف) له جرم (وعرض مقعر الكف) وهو داخل مفاصل أصابع اليد (في رقيق من مغلظة كعذرة)۔
الدر المختار (1/573) رشیدیة
وهو مثقال) هذا هو الصحيح، وقيل يعتبر في كل زمان درهمه بحر. وأفاد أن الدرهم هنا غيره في باب الزكاة فإنه هناك ما كان كل عشرة منه وزن سبعة مثاقيل.. . (قوله: وهو داخل مفاصل أصابع اليد) قال منلا مسكين: وطريق معرفته أن تغرف الماء باليد ثم تبسط، فما بقي من الماء فهو مقدار الكف۔
الفتاوى الهندية (1/ 51) بیروت
[الفصل الثاني في الأعيان النجسة]
وهي نوعان (الأول) المغلظة وعفي منها قدر الدرهم واختلفت الروايات فيه والصحيح أن يعتبر بالوزن في النجاسة المتجسدة وهو أن يكون وزنه قدر الدرهم الكبير المثقال وبالمساحة في غيرها وهو قدر عرض الكف (2) . هكذا في التبيين والكافي وأكثر الفتاوى والمثقال وزنه عشرون قيراطا وعن شمس الأئمة يعتبر في كل زمان بدرهمه والصحيح الأول۔