بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سودی کاروبار کرنے والےشخص کے ساتھ قربانی میں شرکت کرنے کا حکم

سوال

ا گر کوئی آدمی بذات ِخود سود خورنہ ہو مگرکاروبار میں سودخور کےساتھ اشتراک ہو اور اپنا ذاتی کار وبار جس میں کوئی پارٹنر نہیں ہیں سود سے پاک ہو تو کیا اس شخص کے ساتھ قربانی کرسکتے ہے؟

جواب

سودی کاروبار

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص حرام یا سو دی معاملے سے حاصل شدہ آمدن سے رقم نہ دے بلکہ سود سے پاک آمدن سے قربانی کے لیے رقم فراہم کرے تو اس کے ساتھ قربانی میں شریک ہو نا جائز ہے۔
سنن الترمذي(1/3 )قديمى
عن ابن عمر رضي الله عنه  عن النبى صلى الله عليه وسلم قال لا تقبل الصلاة بغير طهورِ ولاصدقة َ من غلولِ
صحيح مسلم (2/345) الحسن
 عن جابرِ رضي الله عنه قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم  آکل الربواٰ و مو کلہ
 معارف السنن (۱/۳۳)سعید
 المراد بہ کل خبیث وحرام وھو المراد ھنا
 درس ترمذی(1/117)معارف القران
احسن الفتاوى  (7/530)اشاعت اسلام
فتاوی قاسمیہ( ۲۲/۳۳۳) دارالاشاعت
کفایت المفتی (۱۲/۹۲) ادارتالفاروق
فتاوی عثمانیہ(۸/۳۹۱ ۳۶۱)العصر اکیڈمی 
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس