ایک آدمی نے عمرہ کیا اور کافی مدت بعد اس کو وسوسہ یا شک گزرا کہ اس نے طواف کے بعد سعی کی تھی یا نہیں ، اب اس شک کا کیا ازالہ ہے؟ جبکہ ابھی وہ دوسرا حج ادا کر کے مکہ میں ۸ دن کے لیے موجود ہے۔
جواب
عمرے کا حکم
مذکورہ شک ،وسوسہ کا کوئی اعتبار نہیں ہے،اور اس سے اپنی توجہ ہٹانی چاہئیے، اور جب خیال آئے تو بس قبولیت کی دعا کریں۔
صحيح البخاري (8/ 135) دار طوق النجاة
عن أبي هريرة، يرفعه قال: «إن الله تجاوز لأمتي عما وسوست، أو حدثت به أنفسها، ما لم تعمل به أو تكلم
غنية الناسك(ص:212)
والشك إنما يعتبر في أثناء السعي والطواف، وأما إذا شك بعد الفراغ فلا شيء عليه كماصرحوا به في الصلاة والوضوء اهـ، كذا في الكبير
جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی سرانجام دے رہا ہے
سوال پوچھیں
دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں