بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سوئمنگ پول میں پانی اور نہانے کے احکامات

سوال

گرمیوں کا موسم عروج پر ہے ،سوئمنگ پول میں اجتماعی تیراکی کا رجحان عام ہے ،دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ: بعض سوئمنگ پول تو ایسے ہوتے ہیں جن میں پانی اس طرح سے جاری ہوتا ہے کہ مستقل یا وقفہ وقفہ سے ٹیوب ویل چلتا رہتا ہے اور اورفلو سے پانی نکلتا بھی رہتا ہے۔ اکثر پول ایسے ہوتے ہیں جن کا پانی بالکل بھی جاری نہیں ہوتا اور چھ چھ ماہ پانی تبدیل بھی نہیں کیا جاتا ،البتہ گھنٹہ وار، یومیہ یا ہفتہ وار حسب ضرورت کلوری نیشن ضرور کی جاتی ہے،نیز سوئمنگ پول عام طور پرx5 25 میٹر(125مربع میٹر)کا ہوتا ہے، پول میں بچے بڑے سب ہی نہاتے ہیں ، لہذا سوئمنگ پول میں کسی کے بھی یورن کا خطا ہو جانا کوئی مستبعدنہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ:
نمبر۱ ۔مذکورہ کسی صورت میں سوئمنگ کے بعد کیا نل کے پانی سے غسل ضروری ہے اگر ضروری ہے تو کس درجہ ضروری ہے ؟
نمبر۲ ۔کیا اس غسل میں غسل واجب کی شرائط پوری کرنا ضروری ہوگا ؟
نمبر۳ ۔کتنے میٹر کے حوض کو دَہ دردَہ حوض کہا جائے گا ؟
نمبر۴ ۔ سوئمنگ پول کے حوالہ سے دَہ دردَہ حوض کے ضروری مسائل بھی بتادیں، تفصیلاً مدلل جواب عنایت فرما دیں۔

جواب

واضح رہے کہ 20.9032 مربع میٹر225) مربع فٹ (رقبے کا حوض دَہ دردَہ کے زُمرے میں آتا ہےاور دَہ دردَہ میں ذراع سے مراد ڈیڑھ فٹ ہے )اوزان شرعیہّ،ص46 ( تو اس طرح دَہ دردَہ کا مطلب ہوا پندرہ فٹ لمبا، پندرہ فٹ چوڑا۔ گہرائی اتنی کافی ہے کہ پانی لینے میں زمین نہ کھلے ،مذکورہ صورت میں حوض کا رقبہ ذکر کردہ معیار سے زائد ہونے کی وجہ سے ماء جاری کے حکم میں ہے،لہذا اس سےوضو اور غسل کرنا جائز ہے (مأخذہ:فتاویٰ محمودیہ((171/5۔
اور نہانے کے بعد نل کے پانی سے غسل کرنا شرعاً ضروری نہیں ہوگا، لیکن اگر نجاست کا اثر ظاہرہو ،یا پانی کا رنگ، ذائقہ یا بُو میں سے کوئی ایک وصف تبدیل ہو، تو ایسی صورت میں نل کے پانی سے غسل ضروری ہے وگرنہ پاکی حاصل نہ ہوگی،یاد رہے کہ معیاری سوئمنگ پول میں ڈاکٹر کی ھدایات کے مطابق نہانے سے پہلے اور نہانے کے بعد،نل کے پانی کے سے غسل احتیاطًا ضروری ہوتا ہے۔
خلاصة الفتاوی(3/1)
الحوض الکبیر مقدار بعشرةأزرع في عشرة أزرعٍ… وعلیه الفتوى
الفتاوی السراجیة( ص:04)  ایچ ایم سعید
الحوض إذا کان عشرًا  في عشر جاز التوضئ منه والاغتسال فیه
الفتاوى الهندية (1/ 18)
الماء الراكد إذا كان كثيرا فهو بمنزلة الجاري لا يتنجس جميعه بوقوع النجاسة في طرف منه إلا أن يتغير لونه أو طعمه أو ريحه وعلى هذا اتفق العلماء وبه أخذ عامة المشايخ – رحمهم الله – كذا في المحيط…ومقدار الحوض الصغير أربعة أذرع في أربعة أذرع. هكذا في الكفاية، وعن أبي يوسف – رحمه الله – أن الغدير العظيم كالجاري لا يتنجس إلا بالتغير من غير فصل هكذا في فتح القدير والفاصل بين الكثير والقليل أنه إذا كان الماء بحيث يخلص بعضه إلى بعض بأن تصل النجاسة من الجزء المستعمل إلى الجانب الآخر فهو قليل وإلا فكثير قال أبو سليمان الجوزجاني إن كان عشرا في عشر فهو مما لا يخلص وبه أخذ عامة المشايخ – رحمهم الله -. هكذا في المحيط
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس