بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دوران ِنماز نجاست کا علم ہوجائے تو کیا کرے ،کس قدر نجاست معا ف ہے ؟

سوال

آج ظہر  کی نماز کے لیے وضوکرکے مسجد کی  صف  میں کھڑا ہواتو پاؤں کے نیچے کچھ چیز چپکی ہوئی محسوس ہوئی پھریہ بات میرے  ذہن سے نکل گئی جب میں نے نماز کے بعد دیکھا تو خون لگا ہوا  تھا ۔جماعت کے ساتھ نماز ادا کی ۔
نمبر۱۔  میری نماز ہوگئی یا نہیں ؟
نمبر ۲۔   اگر نماز کے دوران  دیکھے بغیر اتار لیتا تو کیا حکم ہے؟

جواب

نمبر ۱۔مذکورہ صورت میں نجاست اگر ایک درہم کی مقدار سے زیادہ تھی تو نماز نہیں ہوئی اس کا اعادہ ضروری ہے۔
نمبر ۲۔نجاست کے ایک درہم سے زیادہ ہونے کی صورت میں نماز میں نجاست دور کرنے سے نماز درست نہیں ہوگی، بلکہ نماز چھوڑ کر نجاست دور کریں اور دوبارہ نماز شروع کریں ۔
:غنیۃ المتملی،ابراہیم الحلبی الحنفی(م:956ھ)(ص:146)رشیدیۃ
إذا صلی ومعہ من لحم السباع کالثعلب ونحوہ أکثر من قدر الدرھم لا تجوز صلاتہ وإن کان مذبوحا۔
:المبسوط للسرخسي، محمد بن احمدالحنفی(م: 189ه) (1/ 175)رشیدیۃ
(وإذا صلى، وفي ثوبه من الروث، أو السرقين، أو بول ما لا يؤكل لحمه من الدواب، أو خرء الدجاجة أكثر من قدر الدرهم لم تجز صلاته) ، والأصل في هذا أن القليل من النجاسة في الثوب لا يمنع جواز الصلاة فيه عندنا۔۔۔۔۔۔وحجتنا ما روي عن عمر – رضي الله تعالى عنه – أن سئل عن قليل النجاسة في الثوب فقال: إن كان مثل ظفري هذا لا يمنع جواز الصلاة، ولأن القليل من النجاسة لا يمكن التحرز عنه۔
:اللباب في شرح الكتاب،عبد الغني بن طالب الحنفي(م: 1298ه) (1/ 51)العلمیۃ
(ومن أصابه من النجاسة المغلظة كالدم والبول) من غير مأكول اللحم ولومن صغير لم يطعم (والغائط والخمر) وخرء الطير لا يزرق في الهواء كذجاج وبط وإوز (مقدار الدرهم فما دونه جازت الصلاة معه: لأن القليل لا يمكن التحرز عنه؛ فيجعل عفواً، وقدرناه بقدر الدرهم أخذاً عن موضع الاستنجاء (فإن زاد) عن الدرهم (لم تجز) الصلاة۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس