میری صورتِ حال یہ ہے:کہ ہمارے گھر کی جو زمین تھی وہ میرے دادا کی تھی۔ میرے والد اور دو چچاؤں نے اس پر گھر بنائے تھے۔ بعد میں میرے والد نے ایک چچا سے ان کا حصہ خرید لیا، اور دوسرے چچا کو دوسری طرف زمین دے کر ان کے حصے کا بھی تبادلہ کر لیا۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد گھر والی کل تقریباً 10 مرلہ (یا متعلقہ رقبہ) زمین پانچ بھائیوں میں تقسیم ہوئی، جس میں میرے حصے میں تقریباً 2 مرلہ آئے، اور میں اسی پر گھر بنا کر رہ رہا ہوں۔
مسئلہ یہ ہے کہ میری دو بہنیں ہیں، اور میرا غالب گمان بلکہ یقین ہے کہ وہ اپنا حصہ نہیں لیں گی اور اس پر راضی ہیں۔ اسی طرح میری دو پھوپھیاں بھی ہیں، وہ کافی عمر رسیدہ ہیں، آتی جاتی رہتی ہیں، اور ہم اپنی استطاعت کے مطابق ان کی خبرگیری بھی کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں بھی یہی سمجھ میں آتا ہے کہ وہ اپنے والد کی میراث میں سے حصہ نہیں لیں گی۔
ہمارے خاندان میں صرف میں عالم ہوں، جبکہ باقی لوگ نام کے سنی ہیں اور بدعات میں مبتلا ہیں۔ اگر میں ان سے اس مسئلے کا ذکر کروں تو اندیشہ ہے کہ وہ اسے منفی انداز میں لیں گے۔ اور اگر میں اپنی پھوپھیوں یا ان کے بیٹوں سے اس بارے میں بات کروں تو میرے چچا زاد بھائی بھی ناراض ہو سکتے ہیں اور کہیں گے کہ تمہیں سرداری کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیونکہ وہ خود بھی اپنے والد کے ذریعے دادا کی جائیداد استعمال کر رہے ہیں۔
ایسی صورت میں کیا میرے لیے ان 2 مرلہ زمین پر گھر بنا کر رہنا حرام یا ناجائز ہے؟ میری پختہ نیت ہے کہ جب مناسب ماحول اور موقع ملے گا تو ان شاء اللہ اس معاملے کو ان سے بات کر کے شرعی طور پر حل کر لوں گا۔ اس وقت تک کیا اس زمین یا اس پر بنے ہوئے گھر کا استعمال میرے لیے حرام یا ناجائز ہوگا؟ جبکہ ان کی رضا مندی اور حصہ نہ لینے کا غالب گمان موجود ہے۔
واضح رہےکہ آپ کےدادااور والد کےانتقال کےبعدان کی متروکہ جائیداد میں ان کی مذکراولادکے ساتھ مؤنث اولاد(یعنی آپ کی پھوپھیوں اور بہنوں ) کابھی شرعی حصہ بنتا ہے۔اور ترکہ کی شریعت کے مطابق تقسیم ضروری ہے،خواہ زمین کی تقسیم کی صورت میں ہویا قیمت کی صورت میں ہو۔اور اس کے لئے آپ کو چاہئے کہ سب کو انفرادی طور پر سمجھائیں ،وراثت کے شرعی احکامات اور اس کی اہمیت سے آگاہ کریں اور اجتماعی طورپر اتفاق ِرائے کے ساتھ تقسیم کریں ۔
تاہم آپ کے لئے صرف اتنی ہی زمین استعمال کرنا جائز ہے جتنا اپ کا حصہ بنتا ہے یعنی جوحصہ آپ کے والد کوان کے والد ( آپ کے داد) کی طرف سے ملا ، پھر ان کی وراثت میں سے آپ کاجو شرعی حصہ بنتا ہے، مستحقین کی اجازت کےبغیراس سے زیادہ استعمال کرنا شرعا ناجائز ہے۔
البحر الرائق (7/443)
(فصل في صلح الورثة) (ولو أخرجت الورثة أحدهم عن عرض أو عقار بمال أو عن ذهب بفضة أو على العكس صح قل أو كثر) حملا على المبادلة لا إبراء إذ هو عن الأعيان باطل
الدر المختار (8/490)
فصل في التخارج (أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة هي (ذهب بفضة) دفعوها له (أو) على العكس أو عن نقدين بهما (صح) في الكل……………..۹۳ وصلح أحدهم عن بعض الأعيان صحيح، ولو لم يذكر في صك التخارج أن في التركة دينا أم لا فالصك صحيح
(رد المحتار) : (قوله أخرجت إلخ) أوصى لرجل بثلث ماله ومات الموصي فصالح الوارث الموصى له من الثلث بالسدس جاز الصلح. وذكر الإمام المعروف بخواهر زاده أن حق الموصى له، وحق الوارث قبل القسمة غير متأكد يحتمل السقوط بالإسقاط اهـ.فقد علم أن حق الغانم قبل القسمة، وحق حبس الرهن، وحق المسيل المجرد، وحق الموصى له بالسكنى، وحق الموصى له بالثلث قبل القسمة وحق الوارث قبل القسمة يسقط بالإسقاط.واللہ اعلم