بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیماری کے اندیشہ سے غسلِ جنابت کی بجائے تیمم کرنا

سوال

میں CMV کیرئیر ہوں جو کہ Lungs میں ہوتا ہے جس سے استھما بھی زیادہ ہو جاتا ہے اور ساتھ مجھے thyroid کا بھی مسئلہ ہے۔ اب جیسے ہی سردی آتی ہے تو نہانے سے (بھلے گرم پانی سے نہاؤں) ٹھنڈ لگ جاتی ہے چاہے پنکھے کی ہوا لگ جائے یا موسم تھوڑا گرم ہو تو گاڑی کے اے سی سے بھی ایسا ہوتا ہے۔ پھر میرے جسم میں بہت درد ہوتا ہے اور طبیعت بھی خراب ہو جاتی ہے۔ تو کیا مجھے صحبت کے بعد والے غسل میں تیمم کی اجازت ہو سکتی ہے؟جزاک اللہ

جواب

سوال میں ذکرکردہ تفصیل سے معلوم ہوتاہے کہ محض نہانے سے آپ کی طبیعت خراب نہیں ہوتی بلکہ نہانے کے بعد بے احتیاطی کرنے (مثلاً پنکھے ، اے سی کی ہوا سے نہ بچنے کی وجہ )سے آپ بیمار ہوجاتے ہیں ،لہٰذا آپ کے لیے تیمم کرنے کی اجازت نہیں ، بلکہ غسل لازم ہونے کی صورت میں آپ غسل ہی کریں اور اس کے بعد بے احتیاطی سے اپنے آپ کو بچائیں اور اگر محض نہانے ہی سےسردی لگنے کا اندیشہ ہوتو نہانے کے بعد اپنے جسم کو حرارت پہنچانے کا اہتمام کریں۔
:فى  الدر المختار (1/  232 تا 236)
(من عجز) مبتدأ خبره تيمم (عن استعمال الماء) المطلق الكافي لطهارته لصلاة تفوت إلى خلف (لبعده)…(ميلا)…(أولمرض) يشتد أو يمتد بغلبة ظن أو قول حاذق مسلم ولو بتحرك… (أو برد) يهلك الجنب أو يمرضه ولو في المصر إذا لم تكن له أجرة حمام ولا ما يدفئه، …  (أو خوف عدو) كحية أو نار على نفسه… (تيمم) لهذه الأعذار كلها۔
:فى الشامية تحته:   (1/ 234)
(قوله ولا ما يدفئه) أي من ثوب يلبسه أو مكان يأويه. قال في البحر: فصار الأصل أنه متى قدر على الاغتسال بوجه من الوجوه لا يباح له التيمم إجماعا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس