بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

والد اگر بیٹوں کے پاس ان کے وطن سکونت میں جائےتو وہاں قصر کرے گا یا اتمام؟

سوال

والد اگر اپنے بیٹوں کے پاس جائے جہاں انہوں نے سکونت اختیار کی ہے اور وہاں تک شرعی مسافت بھی بنتی ہے ،تو کیا والد وہاں قصر کرے گا یا اتمام کرے گا،اور اگر مسئلہ اس کے برعکس ہو تو اس صورت میں کیا کرے گا؟
تنقیح:کیا بیٹوں نے آبائی وطن کو چھوڑ کر دوسری جگہ کو وطن اصلی بنا لیا ہے؟
جواب تنقیح:جی ہاں آبائی وطن اصلی کو ختم کر کے دوسری جگہ وطن اصلی بنا لیا ہے۔

جواب

قصر اور اتمام کا حکم

جب ہر ایک کاوطن اصلی علیحدہ علیحدہ ہو تو ہر ایک ان میں سے دوسرے کے وطن جانے سے مقیم نہ ہوگا بلکہ قصر نماز پڑھے گا،بشرطیکہ پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت ہو۔ (ماخذہ :فتاوی دارالعلوم دیوبند ۴/۴۰۸مکتبہ حقانیہ۔)
 الدر المختار (2/ 131) سعید
(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه(يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما۔
رد المحتار (2/ 131)سعید
قوله أو توطنه) أي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وإن لم يتأهل، فلو كان له أبوان ببلد غير مولده وهو بالغ ولم يتأهل به فليس ذلك وطنا له إلا إذا عزم على القرار فيه وترك الوطن الذي كان له قبله شرح المنية۔
البحر الرائق (2/239)رشيدية
والوطن الأصلي هو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده، وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها وهذا الوطن يبطل بمثله لا غير، وهو أن يتوطن في بلدة أخرى وينقل الأهل إليها فيخرج الأول من أن يكون وطنا أصليا
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس