بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ریاض میقات کے اندر ہے یا باہر؟ریاض سے عمرہ یا حج کرنے والا احرام کہاں سے باندھے؟

سوال

ریاض میقات سے باہرشمار ہوتا ہے یا اندر؟ اور اگر کوئی شخص ریاض سے عمرہ یا حج کی نیت سے مکہ مکرمہ جانا چاہتا ہے تو وہ احرام کہاں سے باندھے ؟

جواب

ریاض سے حج یا عمرہ کرنا

ریاض حدودمیقات سے باہر ہے، لہٰذا ریاض سے عمرہ یا حج کی نیت سے مکہ مکرمہ جانے والے کو چاہیئے کہ ریاض میں اپنے گھر یا کسی بھی مقام سے احرام باندھ لے یا مکہ جاتے ہوئے راستے میں آنے والی میقات (یعنی قرن المنازل) یا اس کی محاذات سے احرام باندھ لے۔
الفتاوى الهندية (1/ 221) دار الفكر
 المواقيت التي لا يجوز أن يجاوزها الإنسان إلا محرما خمسة: لأهل المدينة ذو الحليفة ولأهل العراق ذات عرق، ولأهل الشام جحفة ولأهل نجد قرن، ولأهل اليمن يلملم، وفائدة التأقيت المنع عن تأخير الإحرام عنها كذا في الهداية.فإن قدم الإحرام على هذه المواقيت جاز وهو الأفضل إذا أمن مواقعة المحظورات وإلا فالتأخير إلى الميقات أفضل كذا في الجوهرة النيرة
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس