بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بچے کے کیے گئے نقصان کا ضمان اس کے ولی سے لینا/متولی کے لیے وقف ادارے کی اشیاء کو نقصان پہنچانے والے کے ضمان سے کمی کرنا

سوال

بعض اوقات بچے شرارت کے دوران ادارہ کی اشیاء کو نقصان پہنچا دیتے ہیں، مثلاً کوئی چیز توڑ دیتے ہیں یا خراب کر دیتے ہیں۔ اس پر ادارے کی جانب سے ان بچوں سے بطورِ جرمانہ کچھ رقم وصول کی جاتی ہے، اگرچہ وہ رقم اس نقصان کی مکمل تلافی نہ بھی کرتی ہو۔ اس کا مقصد مالی نفع حاصل کرنا نہیں، بلکہ محض بچوں کی تربیت، نظم و ضبط قائم رکھنا، اور ان کو اس بات کا احساس دلانا ہے کہ اسکول کی چیزیں کھیل کا حصہ نہیں بلکہ امانت ہوتی ہیں، جن کی حفاظت ضروری ہے۔ زبانی تنبیہ اور دیگر ذرائع سمجھانے بجھانے کے استعمال کئے جانے کے بعد یہ صورت اختیار کی ہے ۔ نیز یہ رقم وہ اپنے سرپرست سے لے کر دیں یا اپنے ذاتی جیب خرچ سے دیں۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ: کیا شریعتِ مطہرہ کی رُو سے ایسی صورت میں بچوں سے بطورِ جرمانہ رقم لینا جائز ہے؟ اگر یہ طریقہ شرعاً درست نہ ہو تو ایسی صورت میں کوئی متبادل شرعی ضابطہ بتائیں جس پر عمل کرکے بچوں کی اصلاح اور ادارے کے نظم و ضبط کو قائم رکھا جا سکے۔

جواب

نقصان کا ضمان

اگر کوئی طالب علم جان بوجھ کر ادارہ کی کسی چیز کو نقصان پہنچائے تو اس صورت میں طالب علم کے مال ہی سے اس نقصان کا ضمان لیا جائے گا ،اس کے سر پرست کے ذمہ ضمان لازم نہیں ہوگا ،خواہ طالبِ علم بالغ ہو یا نابالغ ہو۔(کذا فی فتاویٰ محمودیۃ،۱۶/۵۳۰)
نیز اگر ادارہ آپ کا ذاتی ہے اور طلبہ ادارے کی چیز کو نقصان پہنچاتے ہیں تو اس صورت میں آ پ کیلیے ضمان میں کمی کرنے کی گنجائش ہے ۔لیکن اگر ادارہ آپ کا ذاتی نہیں بلکہ وقف ہے اور کوئی طالب علم ادارہ کی چیز کو نقصان پہنچائے تو اس صورت میں اس طالب علم سے پورا ضمان لیا جائے گا، متولی و منتظم کیلیے ضمان میں کمی کرنا شرعاً درست نہیں ،بلکہ جتنا نقصان ہوا ہے اتنا ضمان لینا ضروری ہے ۔
مجمع الضمانات (ص: 165)
 المباشر ضامن وإن لم يتعمد ولم يتعد
الدر المختار (4/ 408)
(يفتى بالضمان في غصب عقار الوقف وغصب منافعه) أو إتلافها كما لو سكن بلا إذن أو أسكنه المتولي بلا أجر كان على الساكن أجر المثل
الفتاوى الهندية (2/ 425)
أكار أكل من مال الوقف فصالحه المتولي على شيء إن وجد المتولي بينة على ما ادعى أو كان الأكار مقر لا يملك المتولي أن يحط شيئا منه وإن كان الأكار غنيا وإن كان محتاجا جاز ذلك إذا لم يكن ما على الأكار غبنا فاحشا، كذا في فتاوى قاضي خان
البحر الرائق (7/ 299)
واعلم أن إجارة الوقف لا تجوز إلا بأجرة المثل أو أكثر فلو أجر الناظر بدون أجرة المثل لا تصح الإجارة ويلزم المستأجر تمام أجر المثل وقد وقع في الخلاصة عبارة أوهمت أن الناظر يضمن تمام أجر المثل فقال متولي الوقف أجر بدون أجر المثل يلزمه تمام أجر المثل
مجلة الأحكام العدلية (ص: 177)
(مادة 916) أتلف صبي مال غيره يلزم الضمان من ماله وإن لم يكن له مال ينتظر إلى حال يسر ولا يضمن وليه
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 727)
ثالثا – الولي والوصي والناظر مطالبون بالأشياء التي يلزم دفعها وأداؤها مع أنه لا يثبت في ذمتهم شيء مثلا لو أتلف صبي مال آخر ولزمه الضمان بمقتضى المادة (916) فيطالب وليه أو وصيه بأداء ضمانه من مال الصبي فذلك إنما ثبت في ذمة الصبي ولم يثبت شيء في ذمة وليه أو وصیہ۔
البناية شرح الهداية (13/324)
“م: (قال) ش: أي محمد في ” الجامع الصغير “: م: (وإن استهلك مالا ضمن) ش: أي فإن استهلك الصبي مالا لرجل ضمن، وهذا في غير الوديعة وهو معنى قوله: م: (يريد به من غير إيداع) ش: أي يريد محمد بقوله: لا ضمن، في غير الوديعة، وفيه اتفاق. وفي الوديعة إذا استهلكها خلاف سبق آنفا م: (لأن الصبي يؤاخذ بأفعاله) ش: فإن قلت: رفع القلم عن الصبي بالحديث، فكيف وجب عليه الضمان؟ قلت: رفع القلم يدل على رفع الإثم، ولا يلزم من رفع الإثم نفي الضمان كما في النائم إذا انفلت على شيء فأتلفه. م: (وصحة القصد لا معتبر بها في حقوق العباد، والله أعلم بالصواب) ش: هذا كله جواب عما يقال: إن الصبي ليس له قصد صحيح، فكان ينبغي أن لا يضمن فقال: لا اعتبار لصحة العقد في حق العباد. ألا ترى أن البالغ أيضا إذا استهلك مالا لإنسان فيضمن، سواء كان له قصد صحيح في ذلك أو لم يكن، فعلى أي وجه كان يلزمه الضمان”
الموسوعة الفقهية الكويتية (28/ 276)
فقد طرد الفقهاء قاعدة تضمين الصغار، وأوجبوا عليهم الضمان في مالهم، ولم يوجبوا على أوليائهم والأوصياء عليهم ضمان ما أتلفوه، إلا في أحوال مستثناة، منها
أ – إذا كان إتلاف الصغار للمال، ناشئا من تقصير الأولياء ونحوهم، في حفظهم، كما لو دفع إلى صبي سكينا ليمسكه له، فوقع السكين من يده عليه أو على شخص آخر، أو عثر به، فإن الدافع يضمن
ب – إذا كان بسبب إغراء الآباء والأوصياء الصغار بإتلاف المال، كما لو أمر الأب ابنه بإتلاف مال أو إيقاد نار، فأوقدها، وتعدت النار إلى أرض جاره، فأتلفت شيئا، يضمن الأب، لأن الأمر صح، فانتقل الفعل إليه، كما لو باشره الأب
فلو أمر أجنبي صبيا بإتلاف مال آخر، ضمن الصبي، ثم رجع على آمره۔
ج – إذا كان بسبب تسليطهم على المال، كما لو أودع صبيا وديعة بلا إذن وليه فأتلفها، لم يضمن الصبي، وكذا إذا أتلف ما أعير له، وما اقترضه وما بيع منه بلا إذن، للتسليط من مالكها
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس