بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

غریب شخص پرقربانی کے وجوب کا سبب کیا ہے؟(محقق اور مفصل)

سوال

کیا غریب شخص کا قربانی کےلئے صرف جانور خریدنے سے اس کے ذمہ قربانی واجب ہو جاتی ہے یا پھر قربانی کے دنوں میں قربانی کی نیت سے جانور خریدے تب اس کے ذمے قربانی واجب ہو جاتی ہے؟ اس مسئلے کی پوری وضاحت فرمائیں؟ احسن الفتاوی )۷/ ۴۸۲)کی عبارت بھی ملاحظہ فرمائیں ۔

جواب

غریب شخص پر قربانی

واضح رہے کہ جانور خریدنے والے غیر صاحب نصاب (غریب آدمی )پر قربانی واجب ہونے سے متعلق فقہاءکےمختلف اقوال ہیں، پہلا قول جو مشہوراور اکثر فقہاء کا ہے وہ مطلق ہے ،یعنی غیر صاحب نصاب شخص پر قربانی کی نیت سے جانور خریدنے سے اسی جانور کی قربانی واجب ہو جاتی ہے ،اس شخص کے لیے اس کو بیچنا جائز نہیں ہے، بلکہ اسی کو قربان کرنا واجب ہو جاتا ہے، اس قول کو عام کتب فقہ جیسے :شامی، مبسوط، ہندیہ، بدائع اور البحر الرائق میں اور اسی کے حوالے سے اکثر اردو فتاوی میں اختیار کیا گیا ہے۔ جیساکہ احسن الفتاوی میں بھی یہی موقف منقول ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ایام نحر میں جانور خریدنے سے قربانی واجب ہوگی ورنہ نہیں ہوگی ،ایام نحر کی قید صرف فتاوی تا تارخانیہ میں ہے۔فتاوی رحیمیہ اور فتاوی محمودیہ میں اسی کی بنیادپرفتویٰ دیاگیاہے۔ تیسرا قول بعض فقہاء کا ہے کہ غیر صاحب نصاب شخص پر قربانی کی نیت سے خریدنے سے متعین جانور کی قربانی واجب نہیں ہوتی ،بلکہ واجب ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ یہ شخص قربانی کی نیت سے جانور خرید کر اپنے اوپر زبان سےبھی اس کی قربانی واجب کر لے، مثلا :یوں کہے ،کہ میرے ذمے اس جانور کی قربانی لازم ہے وغیرہ،جس کو فقہاء کی اصطلاح میں”الایجاب بلسانہ “کہا جاتا ہے،پھر اس شخص پر قربانی کی نیت سےخریدے ہوئے متعین جانور کی قربانی واجب ہوگی۔لہٰذابظاہراحوط تو پہلاقول معلوم ہوتاہےتاہم آخری دونوں اقول پر بوقت ضرورت عمل کرنے کی گنجائش ہے۔
(ماخذہ:تبویب،دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی،بتصرف وتلخیص۔مؤرخہ۳۰-3-1430)
الفتاوى الهندية (5/ 291)العلمية
وأما الذي يجب على الفقير دون الغني فالمشترى للأضحية إذا كان المشتري فقيرا، بأن اشترى فقير شاة ينوي أن يضحي بها، وإن كان غنيا لا تجب عليه بشراء شيء
المبسوط للسرخسي (11/18)
 وأما في حق الفقير التضحية أفضل لما فيه من الجمع بين التقرب بإراقة الدم والتصدق، ولأنه متمكن من التقرب بالتصدق في سائر الأوقات، ولا يتمكن من التقرب بإراقة الدم إلا في هذه الأيام فكان أفضل وأما بعد مضي أيام النحر فقد سقط معنى التقرب بإراقة الدم؛ لأنها لا تكون قربة إلا في مكان مخصوص وهو الحرم، وفي زمان مخصوص وهو أيام النحر.ولكن يلزمه التصدق بقيمة الأضحية إذا كان ممن تجب عليه الأضحية
الفتاوی التاتارخانیۃ(۱۷/۴۱۱)فاروقیۃ
وفی العتابیۃ:المختارأن الفقیرلواشتراھابنیۃ الأضحیۃ فی أیام النحرتصیرالتضحیۃ واجبة في حقه ووإن لم یقل بلسانہ شیئافی جواب ظاھرالروایۃ، ھذا اختیار الصدر الشھید، وعلیہ الفتوی
الدر المختار (9/ 532)رشيدية
(وفقير) عطف عليه (شراها لها) لوجوبها عليه بذلك حتى يمتنع عليه بيعها
رد المحتار(9/ 532)رشيدية
(قوله لوجوبها عليه بذلك) أي بالشراء وهذا ظاهر الرواية لأن شراءه لها يجري مجرى الإيجاب وهو النذر بالتضحية عرفا كما في البدائع. ووقع في التتارخانية التعبير بقوله شراها لها أيام النحر، وظاهره أنه لو شراها لها قبلها لا تجب ولم أره صريحا فليراجع
فتح القدير (3/ 166) دار الفكر
 إذا أوجب الفقير بلسانه في كل من الشاتين بعدما اشتراها للأضحية، أما لو لم يوجب بلسانه فلا يجب عليه شيء بمجرد الشراء، ذكره في النهاية
الأشباه والنظائر (1/ 74)
وهل تتعين الأضحية بالنية؟  قالوا: إن كان فقيرا وقد اشتراها بنيتها تعينت فليس له بيعها وإن كان غنيا لم تتعين… والصحيح أنها تتعين مطلقا فيتصدق بها الغني بعد أيامها حية…. لو كان المشتري غنيا لا تجب باتفاق الروايات فله بيعها وإن فقيرا، ذكر في الشافي أنها تتعين بالنية وعند الجمهور لا.إلا أن يقول بلسانه علي أن أضحي بها
فتاوی رحیمیہ(۱۰/۲۸)دارالکتب الاشاعت
 فتاوی محمودیہ (۱۷/۳۱۵)فاروقیہ کراچی
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس