بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حج کی درخواستیں جمع ہونے سے پہلے پیسے خرچ ہو جانے کی وجہ سے فرض حج کا حکم

سوال

ایک شخص کے پاس ایک ماہ پہلے اتنے پیسے تھے کہ حج ہو سکتا تھا لیکن آج کل جب درخواستیں لی جارہی ہیں ان دنوں میں گنجائش نہیں ہے ۔ پیسے خرچ ہو چکے ہیں تو کیا اس پر حج فرض ہے یا نہیں؟

جواب

فرض حج کا حکم

مذکورہ شخص پر اگر پہلے حج فرض نہیں ہوا تھا تو اب بھی چونکہ درخواستں جمع ہونے سے پہلے رقم ختم ہو گی ہے لہذا حج فرض نہیں ہوگا۔(ماخذہ معلم لحجاج(ص:80) ورفیق حج(45))
منحۃالخالق (۲/۵۳۹)رشید
السابع الوقت وهو أشهر الحج أو وقت خروج أهل بلده إن كانوا يخرجون قبلها فلا يجب إلا على القادر فيها أو في وقت خروجهم
فتح ا لقدیر (۲/۴۱۵)رشیدیۃ
فلا يجب قبل أشهر الحج، حتى لو ملك ما به الاستطاعة قبلها كان في سعة من صرفها إلى غيره، وأفاد هذا قيدا في صيرورته دينا إذا افتقر، وهو أن يكون مالكا في أشهر الحج فلم يحج
والأولى أن يقال: إذا كان قادرا وقت خروج أهل بلده إن كانوا يخرجون قبل أشهر الحج لبعد المسافة، أو قادرا في أشهر الحج إن كانوا يخرجون فيها ولم يحج حتى افتقر تقرر دينا
الفتاوی الھندیة(۱/۲۳۸)بیروت
 بخلاف ما لو ملكه مسلما فلم يحج حتى افتقر حيث يتقرر الحج في ذمته دينا عليه كذا في فتح القدير
حاشیہ طحطاوی(۲/۷۲۷)رشیدیۃ
 لو ملكه مسلما فلم يحج حتى افتقر حيث يتقرر وجوبه دينا في ذمته
وکذا فی إرشاد الساری لمناسک ملا علی قاری(ص:۳۴)
البحرالعمیق (۲/۴۰۰)بیروت
ومن شرائطہ إمکان إلی الحج عند خروج أھل بلدہ لأن  ذلک  بمنزلۃ دخول وقت الوجوب کدخول وقت الصلوۃ فإنھا لا تجب قبل وقتھا
 وکذا  في غنیۃالمناسک /بحوالہ  هامش معلم الحجاج (ص:۸۰)
جواھر الفقہ (۴/۹۷) معارف القران
 فتاوی رحیمیہ (۷/۴۲) اشاعت الاسلام
فتاوی دینیۃ(۳/۱۳۷(الاصلاح
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس