بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مکان کی تعمیر میں والد کو رقم دینے کے بعد مکان میں اس کے بقدر حصہ کا مطالبہ کرنا

سوال

میرے والد نے اپنے پیسوں سے زمین خریدی، پھر اس پر مکان بنانا شروع کیا لیکن ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ مکمل کر پاتے، میں نے انہیں گھر مکمل کرنے کے لیے پیسے دیے اور وہ رقم گھر بنانے کی کل رقم کی ۵۰ فیصد تھی، اب جب گھر بن گیا ہے تو کیا میں ان سے یہ مطالبہ کر سکتا ہوں کہ وہ مجھے اس گھر میں میرے جتنے پیسے لگے ہیں اس فیصد کے حساب سے حصہ دار بنالیں تا کہ کل کو جب اس گھر کے حصے ہوں تو مجھے اپنے وراثتی حصے کے ساتھ ساتھ جو رقم میں نے اس گھر پر خرچ کی ہے وہ بھی مل جائے۔ واضح رہے کہ پیسے دیتے وقت کوئی بات والد صاحب سے طے نہیں ہوئی تھی۔ (الشمول تنقیح و جواب منفی )

جواب

صورت مسئولہ میں آپ نے مذکورہ رقم نہ بطور قرض دی ہے اور نہ ہی یہ طے کیا تھا کہ اس رقم کے بقدر میں گھر میں حصہ دار ہوں گا تو یہ رقم آپ کی جانب سے محض تبرع اور احسان ہے اس لیے آپ اپنے والد صاحب سے اس گھر میں کسی حصے کا مطالبہ نہیں کر سکتے، البتہ اگر والد صاحب اپنی خوش دلی سے کچھ حصہ جدا کر کے آپ کو مالک و قابض بنا کر دے دیں ( محض کاغذات میں نام کر نا کافی نہیں ) تو اس میں حصہ مکمل ہو جائے گا اور وہ حصہ والد کی ملکیت سے نکل کر آپ کی ملکیت میں آجائے گا۔  
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس